آمریت کے خلاف احتجاج: اخوان المسلمون کے 75 رہنماؤں‌کو سزائے موت

آمریت کے خلاف احتجاج: اخوان المسلمون کے 75 رہنماؤں‌کو سزائے موت

قاہرہ: مصر کی ایک عدالت نے منتخب ہونے کا تختہ الٹنے اور فوجی آمر کی جانب سے اقتدار پر قبضہ کے خلاف احتجاج کی پاداش میں‌ اخوان المسلمون کے 75 رہنماؤں‌کو سزائے موت سنا دی۔

مصری میڈیا کے مطابق عدالت نے اخوان المسلمون کے 75 افراد کو سزائے موت جب کہ 47 کو عمر قید کی سزائیں‌سنائی ہیں۔

اخوان المسلمون کے مرشد عام (سربراہ) محمد بدیع کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

عدالت کے حالیہ فیصلہ میں اخوان المسلمون کی سینئر رہنماؤں عصام الاریان اور محمد بلتاجی کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔

مصری میڈیا کے مطابق عدالت نے 2013میں سابق منتخب صدر محمد مرسی کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرنے والے جنرل عبدالفتاح صدرالسیسی کی حکومت کے خلاف احتجاج پر سزاسنائی ہے۔

1928 میں اسلامی اسکالر اور اسکول کے استاد حسن البناءؒ کے ہاتھوں قائم ہونے والی اخوان المسلمون نے مصر میں طویل آمرانہ حکومت کے عرب بہار میں ختم ہونے کے بعد انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اخوان المسلمون کے سیاسی ونگ انصاف و ترقی پارٹی (جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی) نے پی ایچ ڈی ڈاکٹر محمد مرسی کو صدارتی امیدوار نامزد کیا جو بھارتی ووٹوں سے مصر کے پہلے منتخب صدر بنے تھے۔

2013 میں منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے جنرل عبدالفتاح السیسی کی کوششوں کے بعد قاہرہ میں طویل دھرنا دیا گیا تھا۔ اس احتجاج کو ختم کرنے کے لیے مصر کی فوجی حکومت نے تشدد کا راستہ اپنایا جس میں سینکڑوں مظاہرین شہید ہوئے تھے۔

قاہرہ احتجاج کے خلاف فوجی کارروائی کےد وران چند گھنٹوں میں 800 افراد کو قتل کیا گیا تھا۔ ہیومن رائٹس کمیشن نے اس واقع کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا تھا۔

ہیومن رائٹس کمیشن نے اپنی رپورٹس میں کہا تھا کہ دھرنے میں 85 ہزار سے زائد افراد شریک تھے، 45 دن تک جاری رہنے والا دھرنا ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید منظم ہونے کے علاوہ مزید افراد کو بھی اپنا شریک بناتا رہا تھا۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *