کینڈل ٹوٹ گئی

کینڈل ٹوٹ گئی

وہ سوچوں میں گم، نیم تاریک سے کمرے میں بیٹھی اپنے نفع و نقصان کا حساب کر رہی تھی۔ اس کے بیڈ کے سامنے دھرے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی کینڈل کی لو لوڈشیڈنگ کا پھیلا اندھیرا بھگانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن وہ اس سب سے بے نیاز اپنی زندگی پر چھا جانے والے اندھیرے سے لڑ رہی تھی۔

اسے یہاں بیٹھے گھنٹوں گزر چکے تھے، موسم میں حبس سا تھا اس لیے باہر لان میں بیٹھنے کا دل بھی نہیں چاہ رہا تھا۔ بجلی جانے کی صورت میں روشنی کے لیے یو پی ایس بھی نصب تھا لیکن شاید بیٹری کی وجہ سے وہ بیک اپ نہیں دے پایا تھا۔ اچانک لائٹ گئی تو میڈ نے اس سے پوچھ کر کینڈل جلائی اور ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے ایک پرانے شوپیس کے کنارے چپکا دی۔

کمرے میں موجود گرمی اور حبس زدہ موسم بے چینی کی وجہ تو تھا لیکن اس کے اندر موجود بے چینی اتنی زیادہ تھی کہ موسم کچھ خاص اثرانداز نہیں ہو پا رہا تھا۔

کبریٰ کے ذہن پر طاری سوچوں کی قلابازیاں اسے مسلسل ادھر سے ادھر پٹخ رہی تھیں۔ اس دوران وہ کبھی آنکھ اٹھا کر ایک نظر موم بتی پر ڈالتی لیکن فورا ہی اس پر طاری سوچیں دھندلاہٹ زدہ منظر کو اور دھندلا دیتیں۔ اس کی آنکھوں میں موجود آنسوؤں کی نمی بھی اس دھندلاہٹ کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی تھی۔

چھ بہن بھائیوں میں چوتھے نمبر پر موجود کبریٰ اپنے آرمی ریٹائرڈ والد اور ایک مکمل گھریلو خاتون کہلانے والی والدہ پر مشتمل گھرانے کا لاڈلہ بچہ تھی۔ گھر میں اللہ کا دیا سبھی کچھ تھا، لگے بندھے معمول کے تحت گزرتی زندگی میں اسے احساس ہی نہیں ہوا کہ کب بابل کا آنگن چھوڑنے کا وقت آیا اور وہ بھی پیا دیس سدھار گئی۔

گھر بدلا تو معمولات بھی تبدیل ہو گئے لیکن کیا کرتی ذہن اور مزاج کو تو نہیں بدلا جا سکتا تھا۔ زندگی کا محور بہن بھائیوں اور والدین سے ہٹ کر خود اور شوہر پر مرتکز ہوا تو کبریٰ کو اندازہ ہوا کہ اب تقاضے بدل گئے ہیں۔

سوچوں میں غلطاں کبریٰ کی نظر ایک بار پھر سامنے موجود کینڈل پر جا پڑی جو اپنی بساط کے مطابق اندھیرے سے لڑنے اور روشنی پھیلانے میں مصروف تھی۔ اس نے سوچا کہ یہ عام سی موم بتی بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کتنی خاص ہو گئی ہے۔ گویا زندگی کا مرکز بن گئی ہے۔ پھر اسے خیال آیا کہ اندھیرا بھی تو زندگی کا حصہ ہوتا ہے، لیکن فورا ہی اگلے خیال نے چیلنج کیا کہ ہوتا تو ہے لیکن زندگی کی علامت روشنی کو ہی کہا جاتا ہے۔

اسے خیال آیا کہ کینڈل یا موم بتیاں اتنے سارے ڈیزائنوں میں آتی ہیں کہ کبھی بہت زیادہ خوبصورت لگتی ہیں۔ پھر اس نے سوچا کہ موم بتی نہیں بلکہ اس سے جڑا تصور اصل خوبصورتی رکھتا ہے۔ یہ بات اس لئے بھی سچ لگی کہ کسی بہت ہی پیارے کی سالگرہ پر جلائی گئی کینڈل بھی اس موقع جتنی ہی خاص ہو جاتی ہے۔ کسی کے ساتھ کینڈل لائٹ ڈنر بھی موم بتی کو بہت خاص کر دیتا ہے۔ اس کی سوچ نے تسلیم کیا کہ کینڈل سے زیادہ خوبصورتی اس سے جڑے تصور میں ہوتی ہے۔

اچانک کوئی آواز سنائی دی اور کبریٰ چونک پڑی، اندھیرا ایک دم مزید گہرا ہو گیا، ڈریسنگ ٹیبل پر دھری موم بتی کی روشنی ختم ہو چکی تھی۔ شاید ملازمہ نے جس شو پیس پر موم بتی رکھی تھی اس کے ہلنے سے کینڈل نیچے گر کر بجھ گئی تھی۔ اس نے بیڈ پر دائیں بائیں ہاتھ چلایا اور تکیے کے پاس پڑے آئی فون کی اسکرین آن کر کے روشنی کر لی۔ سامنے دیکھا تو موم بتی ڈریسنگ ٹیبل سے نیچے گر پڑی تھی اور دو ٹکڑوں میں نظر آ رہی تھی۔ اسی لمحے اس کے کمرے کے باہر سے گزرتی میڈ نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئی تو موم بتی بجھی اور موبائل آن دیکھ کر کہنے لگی ‘بی بی جی دوسری موم بتی جلا دوں، لائٹ کا کوئی لمبا مسئلہ لگتا ہے، موبائل کی فلیش آن رہی تو بیٹری ڈاؤن ہو جائے گی’ کبریٰ نے سر ہلا دیا۔ ملازمہ باہر گئی اور کچھ دیر بعد دوسری کینڈل جلا کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دی، اس بار اس نے کینڈل رکھنے کے لیے کسی اور چیز کا انتخاب کیا تھا تاکہ موم بہہ کر قیمتی ڈرسینگ ٹیبل کی پالش خراب نہ کرے۔

میڈ کے واپس جانے کے بعد کبریٰ اپنے بیڈ سے اٹھی اور نیچے پڑی موم بتی کے دونوں ٹکڑے اٹھا کر واپس بستر پر آ بیٹھی۔ اپنے خیالوں کا سلسلہ پھر سے جوڑنے میں مصروف اس کا ذہن اور ہاتھ کچھ دیر کے لیے غیر متعلق ہو گئے۔ کبریٰ غیر محسوس طور پر ٹوٹی ہوئی کینڈل کو جوڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔

اس نے دونوں حصوں کو ملا کر ذرا سا دبایا لیکن ٹوٹی ہوئی موم بھلا ایسے کس طرح جڑتی ہے۔ پھر ذرا زور سے دبایا اور کچھ دیر ایسے ہی پکڑے رہی، دباؤ کم کر کے دیکھنا چاہا تو کینڈل کے ٹکڑے پھر الگ ہو گئے۔ اب ذہن بھی اس کے ہاتھوں کی حرکت سے ہم آہنگ ہو چلا تھا یا شاید شعوری طور پر اس کے عمل کا ساتھ دینے لگا تھا، تبھی تو کینڈل جوڑنے کے لیے اس کی ہر کوشش پر فوری ردعمل دینے لگا تھا۔

کبریٰ بار بار موم بتی کے دونوں ٹکڑوں کو جوڑ کر دباتی، مبادا یہ جڑ جائیں لیکن اس کی ہر کوشش ناکام ہو تی رہی۔ کچھ دیر بعد مایوس ہو کر اس نے موم بتی جوڑنے کی کوشش چھوڑ دی اور دونوں ٹکڑے بیڈ پر اپنے قریب ہی رکھ دیے۔

اچانک ہی ایک خیال اس کے ذہن میں آیا اور فورا ہی اسے ٹوٹی ہوئی کینڈل اپنے جیسی لگنے لگی۔ اس احساس کے پیدا ہوتے ہی کبریٰ نے کینڈل کو دوبارہ سے ہاتھوں میں اٹھا لیا۔ کبریٰ کو لگا کہ اس کی اپنی زندگی بھی تو ٹوٹ چکی ہے اور باوجود خواہش کے اب تک جڑ نہیں پا رہی ہے۔ وہ زندگی کے ٹوٹے ٹکڑوں کو جوڑنے کے لیے زور لگاتی ہے لیکن یہ ملنے کا نام ہی نہیں لیتے۔

شادی کے کچھ ہفتوں بعد شاید اسے بھی زندگی کا جھٹکا ہی لگا تھا جو ازدواجی رشتے میں پہلی لکیر لایا تھا۔ اس کے شوہر اپنے کام کے سلسلہ میں کسی لگے بندھے معمول کے پابند نہیں رہ سکتے تھے۔ کبھی وہ جلد آ جاتے تو کبھی خاصی تاخیر ہوجاتی۔ زندگی کی گاڑی گزرتے لمحوں کے ساتھ آگے کو بڑھتی رہی۔ اللہ نے اسے اگلے چار برسوں میں دو پھول سے بیٹیوں سے نوازا تو کبریٰ کو لگا کہ زندگی نے نئی سمت اختیار کر لی ہے۔ اب اس کی سوچیں اور مصروفیات دونوں کلیوں کے گرد گھوما کرتیں۔ انعم اور علینہ میں دونوں کی جان تھی، اس لیے دونوں ہی انہیں ذیادہ سے زیادہ وقت دینے کی کوشش کرتے۔ شارق کی کاروباری مصروفیات آڑے آتیں لیکن پھر بھی کسی نا کسی طرح وہ دونوں بیٹیوں کے لیے ٹائم مینیج کر ہی لیتے۔

کہانی کا باقی حصہ آئندہ قسط میں پڑھیں۔ ادارہ

Fawzan Shahid

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *