ڈیڑھ سال تک زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کی دہائی | pakistantribe.com/urdu

ڈیڑھ سال تک زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کی دہائی

کمالیہ:‌پنجاب میں‌مسلسل ڈیڑھ سال تک زیادتی کے نتیجے میں ماں بن جانے والے لڑکی نے وزیراعلی پنجاب سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے اپنی بپتا سنا ڈالی۔

بدھ کو سامنے آنے والی افسوسناک اطلاع میں بتایا گیا ہے کہ کمالیہ میں بااثر افراد نے پیشی پر آئی ہوئی لڑکی کو احاطہ عدالت سے اغوا کرنے کی کوشش کی جسے موقع پر موجود شہریوں نے ناکام بنا دیا۔

واقعہ کے بعد متاثرہ لڑکی ن ش نے والدہ اور والد کے ہمراہ نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ ڈیڑھ سال قبل آصف ،ظفر اور مظہر وغیرہ نے اسے اغوا کیا اور ایک سال تک زبردستی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔

ن ش کے مطابق ایک دن وہ اغواء کنندگان کی قید سے فرار ہو کر اپنے والدین کے گھر پہنچ گئی، جس پر میرے گھر والوں نے تھانہ صدر پولیس کو ملزمان کے خلاف کاروائی کے لیے تحریری درخواست دی۔

متاثرہ لڑکی نے پولیس کے شرمناک رویے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ تھانہ صدر پولیس نے ملزمان کے ساتھ ساز باز کی وجہ سے کاروائی کرنے سے انکار کردیا۔ اسی دوران میرے ہاں بیٹی بھی پیدا ہوئی جسے میں اسکے باپ کا نام دینے سے محروم ہوں۔

مغویہ نے مزید بتایا کہ ملزمان کے خلاف کاروائی کے لیے جب ہم نے عدالت سے رجوع کیا تو آج ملزمان نے احاطہ عدالت سے مجھے دوبارہ اغوا کرنے کی کوشش کی جسے موقع پر موجود افراد نے ناکام بنا دیا۔

لڑکی کا کہنا تھا کہ ملزمان اتنے بااثر ہیں کہ نہ تو میرا مقدمہ درج ہونے دے رہے ہیں اور نہ ہی عدالت کا کوئی احترام کرتے ہیں بلکہ مسلسل مجھے اور میرے لواحقین کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ قانونی کاروائی سے باز رہو ورنہ آپ سب لوگوں کے خلاف جھوٹے مقدمات بھی درج کروائیں گے اور اگر جان سے مارنا پڑا تو بھی دریغ نہیں کریں گے۔

لڑکی اور اس کے والدین نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے نوٹس لے کر مقدمہ درج کرنے اور ملزمان کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ ن ش کی والدہ نے ہاتھ جوڑتے ہوئے التجا کی کہ ان کا کوئی پوچھنے والا نہیں ایسے میں انہیں انصاف دلایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں