پاکستان میں‌ بچوں‌ سے زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی کیلئے قانون سازی

پاکستان میں‌ بچوں‌ سے زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی کیلئے قانون سازی

اسلام آباد: سینیٹر رحمان ملک نے بچوں کو اغواء اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والے ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کے لئے قانون سازی کی غرض‌سے نجی بل جمع کروا دیا۔

پاکستان ٹرائب کے نمائندہ اسلام آباد کے مطابق مجوزہ قانون سازی کے لئے رحمن ملک نے سینیٹ سیکرٹریٹ میں پرائیویٹ بل جمع کروایا ہے۔

بل میں کم سن بچوں اوربچیوں کے اغواء ،زیادتی کرکے قتل کرنے والوں کو سرعام پھانسی کی سزا منظور کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔

جمع کردہ بل کے تحت قانون میں ایسی ترمیم تجویز کی گئی ہے جس کے نتیجے میں مذکورہ مجرموں کو سزائے موت کے بجائے سرعام پھانسی کی سزا دی جا سکے گی۔

ایک روز قبل سسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے متفقہ طورپر اجلاس میں اس تجویز کی منظوری دی تھی۔

رحمن ملک نے بل سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کروانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس سلسلے میں چیئرمین سینٹ سے بھی ملیں گے تا کہ بل کو قانون سازی کے لئے آگے بڑھایا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینٹ سے رولز معطل کرکے بل منظوری کے لئے ایوان میں زیر بحث لانے کی استدعا کروں گا۔

رحمن ملک نے قصور میں ہوئے افسوسناک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی خواہش کے مطابق زینب کے قاتل کو سرعام پھانسی کی سزا ملنی چاہیے۔

اس موقع پر انہوں نے گزشتہ روز زینب کے مبینہ قاتل کی گرفتاری کے بعد کی گئی وزیراعلی پنجاب کی پریس کانفرنس پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا مقتولہ زینب کے والد کی موجودگی میں تالیاں بجانا کوئی اچھا عمل نہیں۔

یاد رہے کہ شہباز شریف نے اپنی نیوز کانفرنس میں زینب کے قاتل کی گرفتاری کے لئے کام کرنے والے پولیس اہلکاروں و افسران کی ستائش کے لئے تالیاں بجوائی تھیں۔ اس موقع پر معصوم زینب کے والد بھی موجود تھے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *