ایک فیصد دولتمندوں نے 82 فیصد دولت سمیٹی

ایک فیصد دولتمندوں نے 82 فیصد دولت سمیٹی

پیرس:بین الاقوامی خیراتی تتظیموں کی کنفیڈریشن آکسفم کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس 2017 میں دنیا کے ایک فیصد امیر افراد نے 82 فیصد پیسہ کمایا جب کہ دنیا کی غریب ترین نصف آبادی کچھ نہ کما سکی۔

تنظیم کی رپورٹ کے مطابق 2010 سے اب تک معمولی ورکرز کے مقابلے میں دنیا کے ارب پتی افراد کی دولت میں 6 گنا تیزی سے اضافہ ہوا۔ جب کہ مارچ 2016 سے مارچ 2017 کے درمیان ارب پتی افراد کی دولت میں ہر دوسرے دن اضافہ ہوا۔

آکسفم کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں صرف چند امیر ترین افراد کا مستقبل روشن ہے جب کہ لاکھوں افراد انتہائی کم تنخواہوں پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔

غیرسرکاری امدادی ادارے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر وینی بیا نییما کا کہنا ہے کہ ارب پتی افراد کا امیر سے امیر تر ہونا معیشت کی ترقی نہیں بلکہ معاشی نظام کی تباہی کے آثار ہیں۔

آکسفم نے خواتین ورکرز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین ورکرزکی تنخواہیں مرد ورکرز کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ مالدار افراد میں صنفی تواز کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ 10 ارب پتی افراد میں سے صرف ایک خاتون ارب پتی ہے۔

رپورٹ میں بڑے بڑے شیئر ہولڈرز اور معمولی ورکرز کے گوشواروں کا موازنہ کیا گیا۔ اس رپورٹ کا عنوان ”کام کو اہمیت دو پیسے کو نہیں” رکھا گیا ہے۔

آکسفیم سربراہ نے مزید کہا کہ یہ ان لوگوں کا استحصال ہے جو ہمارے لیے کپڑے بناتے ہیں۔ غریب لوگوں کی بہتری کے لیے کام کرنے والوں کی تلاش بھی ایک مشکل کا م ہے۔

وینی بیا نییما نے کہا کہ نادار افراد کی بہبود کے لئے کام کرنے والے نہ ہونے کے برابر ہیں تاہم غریب لوگوں پر ٹیکس عائد کرنے اور مزدورں کے حقوق سلب کرنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *