چیف جسٹس کے نام شہید نیب افسر کامران فیصل کی بیٹی کا کھلا خط | pakistantribe.com/urdu

چیف جسٹس کے نام شہید نیب افسر کامران فیصل کی بیٹی کا کھلا خط

چیف جسٹس ثاقب نثار کے نام شہید کامران فیصل نیب افسر کی بیٹی کا کھلا خط

انکل ثاقب!
میں ایمن بنت کامران فیصل، ہر دن جیتی ہر دن مرتی، آ پ سے مخاطب ہوں، وہی کامران فیصل جسے پانچ سال پہلے راجہ پر ویز اشرف و دیگر کے خلاف 100 ارب سے زائد کی کرپشن کے کیس میں دھونس دھمکیوں کو خاطر میں نہ لانے اور وقت کے فرعونوں کی کرپشن کو طشت از بام کرنے کی پاداش میں ہمیشہ کے لئے خاموش کر دیا گیا تھا۔
تب میں کلاس نرسری میں تھی اور آج کلاس فور میں، لوگ تو میرے بابا کو بھول چکے ہیں لیکن آپ یقیناًنہیں بھولے ہونگے، میری سہیلی نے مجھے بتایا کہ آپ نے حال ہی میں17 سال تک انصاف ڈھونڈنے والی ایک بیوہ خاتون کو انصاف دلایا ہے، آپ نے جب سے خود کو بابے رحمتا کہا،بلا امتیاز اور فوری انصاف کی یقین دہانی کروائی، ننھی زینب کے قاتلوں کو عبرت کا نشان بنانے کا عندیہ دیا، تب سے مجھے یہ اُمید ہو چلی ہے کہ آپ میرے بابا کے قاتلوں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔
ننھی زینب کی کچرے کے ڈھیر پر پڑی لاش میں آپ کو اپنی بیٹی ضرور دکھی ہو گی ، کیا بتاوں انکل ننھی زینب تو ایک بار مر چکی ، آپ کی یہ بیٹی تو روزمرتی اور روز جیتی ہے۔

کہو ں کس سے میں کہ کیا ہے شبِ غم بُری بلا ہے
مجھے کیا بُرا تھا مرنا ، اگر ایک بار ہوتا

آپ کے پیشرو نے تو آپ کو کامران فیصل قتل کیس کا نہیں بتایا ہوگا ، انکل! میں آپ کو بتاتی ہوں کہ اس کیس کی فائل کس سرد خانے میں پڑی ہے ، انکل میرے بابا کو 2013 میں شہید کیا گیا میری ماما نے مجھے بتایا کہ بابا کی شہادت کو وقت کے فرعونوں نے خود کُشی کا نام دیا لیکن فرانذک رپورٹ نے قبر کشائی کے بعد اعتراف کیا کہ یہ قتل تھا۔
جے آئی ٹی کی رپورٹ 2013 میں سپریم کورٹ میں جمع ہوئی ، اور آج تک اس کیس کی باری نہیں آئی ۔
میں نے جب اپنی سہیلی کو بابا کی پانچویں برسی کا بتایا تو اس نے ڈھارس بندھوائی اور کہا کہ یہ برسی آنسوؤں سے مت مناؤ ، آؤ انکل ثاقب کو بتا ئیں، وہ کچھ بھی ہو جائے تمھارے بابا کو ضرور انصاف دینگے۔
وہ تو یہ بھی کہہ رہی تھی کہ اس نے کہیں پڑھا ہے کہ معاشرے ظلم پر تو قائم رہ سکتے ہیں لیکن نہ انصافی پر نہیں۔
انکل اگر یہ ظالم آپ سے بھی مضبوط ہیں تو پھر میں اگلا خط سب سے بڑی اور اللہ کی عدالت میں لے جاؤں گی، اللہ میاں ظالموں کی پکڑ سے پہلے آپ سے ایک بار یہ ضرور پوچھیں گے کہ میں نے آپکو انصاف کی سب سے بڑی مسندپر اس لئے بٹھایا تھا کہ آپ مظلوم کی داد رسی کریں ، کسی کی آہ میرے عرش تک نہ پہنچنے پائے، اگر یہ سوال آ پ سے اللہ میا ں نے پوچھ لیا کہ زینب، ایمن جیسی ہزاروں مظلوم آوازوں پر آپ نے جنبشِ قلم اور انصاف کے علم سے کتنا انصاف کیا، اگر یہ ایک بار بھی پوچھ لیا تو آپ کے پاس کیا جواب ہو گا،

انصاف کی منتظر آپکی بیٹی ایمن بنتِ کامران فیصل۔

اپنا تبصرہ بھیجیں