نقیب اللہ ہلاکت: ثابت کروں گا پولیس مقابلہ جعلی نہیں تھا، راؤ انوار

نقیب اللہ ہلاکت: ثابت کروں گا پولیس مقابلہ جعلی نہیں تھا، راؤ انوار

کراچی: ایس ایس پی ملیرراؤ انوار نے نقیب اللہ محسود قتل کیس میں اپنے خلاف کارروائی کی سفارش کو سمجھ سے بالاتر قرار دیتے ہوئے پولیس مقابلے کو درست ثابت کرنے کا دعوی کیا ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پولیس کی تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نسیم اللہ عرف نقیب اللہ کو بے گناہ قرار دے چکی ہے۔

انسپکٹر جنرل پولیس سندھ اے ڈی خواجہ کے حکم پر بنائی گئی محکمانہ کمیٹی نے راؤ انوار کو معطل کرکے گرفتار کرنے اور نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی سفارش کی ہے۔

ایس ایس پی راؤ انوار نے کہا کہ ’13 جنوری کو پولیس مقابلے کے بعد پہنچا اور مقابلے کا مقدمہ بھی ایس ایچ او شاہ لطیف کی مدعیت میں درج کیا گیا اس لیے میرے خلاف کارروائی کی سفارش سمجھ سےباہر ہے‘۔

راؤ انوار نے نقیب اللہ محسود کے قتل کا سبب بننے والے پولیس مقابلہ کا دفاع کرتے ہوئے اپنے خلاف سفارشات دینے والی تحقیقاتی کمیٹی کے رکن ڈی آئی جی سلطان خواجہ پر تحفظات کا اظہار کر ڈالا۔

ان کا کہنا تھا کہ انکوائری کمیٹی کے رکن سلطان خواجہ نے ایس ایچ او شاہ لطیف کو کہا کہ تم بیان دو ہم تمہیں بچا لیں گے۔

راؤ انور کا کہنا تھا کہ وہ ثابت کریں گے کہ پولیس مقابلہ جعلی نہیں تھا اور انہیں امید ہے کہ سپریم کورٹ ان کے ساتھ انصاف کرے گی۔

یاد رہے کہ 13 جنوری کو پولیس مقابلے میں مارے جانے والے مبینہ دہشتگردوں میں‌ سے ایک نقیب اللہ محسود کے بارے میں‌ لواحقین کا کہنا تھا کہ اسے جھوٹے الزام میں مارا گیا ہے۔

قبل ازیں راؤ انوار یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر نقیب اللہ محسود فیکٹریوں میں کام کرنے والا مزدور رہا ہے تو اس کے پاس کئی لاکھ روپے کی بھاری رقم کہاں سے آئی تھی؟

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

One thought on “نقیب اللہ ہلاکت: ثابت کروں گا پولیس مقابلہ جعلی نہیں تھا، راؤ انوار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *