زینب قتل کیس، جے آئی ٹی سربراہ قصور پہنچ گئے

زینب قتل کیس، جے آئی ٹی سربراہ قصور پہنچ گئے

لاہور: زینب اغواء، زیادتی اور قتل کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم یعنی جے آئی ٹی کے نئے سربراہ قصور پہنچ گئے ہیں۔

قصور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے زینب کے والد محمد امین نے پنجاب حکومت کی قائم کردہ جے آئی ٹی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی ابو بکر خدا بخش پر اعتراض کیا تھا۔

زینب کے والد کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کا سربراہ قادیانی ہے، اس کی سربراہی میں جے آئی ٹی کو مسترد کرتا ہوں۔

اس مطالبے کے بعد جے آئی ٹی کے نئے سربراہ کے طور پر ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) ملتان محمد ادریس کا تقرر کیا گیا تھا۔

وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی سات سالہ زینب کے والد سے ملاقات کی تھی اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کروائی تھی۔

شہباز شریف نے زینب قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دیںے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ معاملہ حتمی انجام تک پہنچنے سے قبل جے آئی ٹی قصور میں ہی قیام کرے۔

ننھی زینب کی لاش ملنے کے تیسرے روز بھی قصور میں کشیدگی برقرار ہے۔ 2 روز قبل اعلان کئے گئے رینجرز کے دستے شہر میں پہنچ گئے ہیں جس کے بعد پولیس بھی سڑکوں پر ہے۔

مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کر کے راستوں کو بند کر دیا گیا تھا جنہیں کلئیر کرنے کا عمل جاری ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *