ننھی زینب کی آخری تصویر، ہاتھ سی لکھی تحریر اور قبر کے ناقابل فراموش مناظر | pakistantribe.com/urdu

ننھی زینب کی آخری تصویر، ہاتھ سی لکھی تحریر اور قبر کے مناظر

قصور:‌پاکستانی صوبے پنجاب کے ضلع قصور میں اغواء اور زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی ننھی زینب کا واقعہ جو جو بھی سنتا ہے رہ نہیں‌ پاتا۔

ذیل میں‌ ساڑھے چھ سالہ ننھی زینب کی والد کے ہمراہ آخری تصویر، ان کی نوٹ بک کے اوراق اور آخری ٹھکانے کی تصویر دی جا رہی ہے۔ ایک الگ تصویر میں‌ وہ کسی تقریب کے دوران کھڑی اپنی معصوم آنکھوں‌ سے کیمرے کو دیکھتی نظر آرہی ہیں۔

Zainab with her Father and Mother
والد کے قریب اپنی والدہ کی گود بیٹھی ننھی زینب اب ہم میں نہیں رہی

بظاہر عام سی نظر آنے والی یہ تصاویر بغیر کسی جرم قتل کی گئی معصوم کی وہ صدا ہیں جو کسی ذی شعور کو سکون کا سانس نہیں‌ لینے دیں‌ گی۔

No automatic alt text available.
ننھی زینب کی ڈائری کا ایک ورق جس پر اغواء سے چند روز قبل کی تاریخ دیکھی جا سکتی ہے

زینب کی کاپی میں اسی کے ہاتھوں لکھی تحریر میں وہ اپنا تعارف کرواتے ہوئے بتاتی ہیں کہ میں ایک لڑکی ہوں، میرا نام زینب ہے، میرے والد کا نام امین ہے، میری عمر سات سال ہے، میں قصور میں رہتی ہوں۔

School bad, books and reading table of Zainab, kidnaped, abused and killed in Kasoor.

زینب کا اسکول بیگ، کاپیاں اور کتابیں ریڈنگ ٹیبل پر موجود ہے لیکن انہیں تھامنے والے ہاتھ منوں مٹی تلے جا سوئے ہیں۔

Image may contain: 1 person, smiling, standing and closeup

خاموشی کی زبان سے ‘مجھے کس جرم میں قتل کیا گیا؟’ کا سوال پوچھتی زینب کی ایک خوبصورت تصویر

grave of minor Zainab kidnaped, abused and killed in Kasoor, Punjab
قصور میں اغواء کے بعد زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کی گئی ساڑھے چھ سالہ زینب کی بے نام قبر

یہ سوال ہیں ہمارے معاشرے پر، نظام انصاف پر، پولیس و قانون نافذ کرنے والوں پر، حکمراں اور ریاست پر، بیشک ان میں سے ہر ایک نے یہ بتانا ہو گا کہ پھول سی زینب کیوں قتل کی گئی؟

اپنا تبصرہ بھیجیں