سپریم کورٹ نے زینب کے قاتل کی گرفتاری پر وضاحت جاری کردی

سپریم کورٹ نے زینب کے قاتل کی گرفتاری پر وضاحت جاری کردی

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے پنجاب کے ضلع قصور میں‌ زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی معصوم زینب کے مبینہ قاتل کی گرفتاری کے متعلق وضاحت جاری کی گئی ہے۔

پاکستان ٹرائب کے نمائندہ اسلام آباد کے مطابق جمعرات کی شام سپریم کورٹ ترجمان کے بیان میں‌سینئر وکیل احمد رضا قصوری کے دعوے کو سیاق و سباق سے ہٹ کر قرار دیا گیا ہے۔

قبل ازیں‌سینئر قانون دان احمد رضا قصوری نے مختلف نجی چینلز کو بتایا تھا کہ انہیں‌چیف جسٹس نے خوشخبری سنائی ہے کہ معصوم زینب کا قاتل گرفتار کر لیا گیا ہے جو بچی کے خاندان کا رشتہ دار ہے۔

سپریم کورٹ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ احمد رضا قصوری نے بات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے احمد رضا قصوری کو بتایا تھا کہ سوشل میڈیا پر قاتل کی گرفتاری کی خبر چل رہی ہے۔

اغواء‌کے 4 روز بعد زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کی گئی ساڑھے 6 سالہ زینب کی لاش قصور کی مقامی کچرا کنڈی سے برآمد ہوئی تھی۔

زینب کے اہل خانہ نے بتایا تھا کہ ان کی جانب سے پولیس سے بچی کی گمشدگی پر رابطہ کیا گیا لیکن کوئی شنوائی نہیں‌ ہوئی۔

زینب کے اغواء اور قتل کے بعد بیرون ملک موجود ماں‌ اور والد نے وطن واپسی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ قاتل کو بہرصورت گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف سے انصاف دلانے کی اپیل بھی کی تھی۔

جمعرات کو نیوز کانفرنس میں‌ ننھی زینب کے والد کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی میں‌ نظر آنے والے فرد کو وہ نہیں‌ جانتے۔

پنجاب حکومت نے زینب کے قاتل کی نشاندہی کرنے والے کے لئے ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب زینب کی تدفین کے دوسرے روز بھی قصور میں‌ احتجاج جاری رہا اس دوران ن لیگ کے رکن صوبائی اسمبلی کے ڈیرے پر بھی مظاہرین نے حملہ کیا۔ اس سے قبل ڈپٹی کمشنر آفس اور ڈسٹرکٹ پولیس آفس میں‌ بھی توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *