قصور کی زینب کا قاتل پکڑا گیا؟ ملزم کون ہے | pakistantribe.com/urdu

قصور کی زینب کا قاتل پکڑا گیا؟ ملزم کون ہے

اسلام آباد: سینیئر پاکستانی وکیل احمد رضا قصوری نے دعوی کیا ہے کہ قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی معصوم زینب کا قاتل پکڑ لیا گیا ہے۔

جمعرات کو سامنے آنے والی اطلاع میں احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ انہیں ملزم کے پکڑے جانے سے متعلق اطلاع چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس ثاقب نثار نے دی ہے۔

مختلف پاکستانی نیوز چینلز سے گفتگو کرتے ہوئے احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ضلع قصور کی 8 سالہ زینب کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر از خود نوٹس لینے پر چیف جسٹس کا شکریہ ادا کرنے گئے تھے۔ اس دوران چیف جسٹس پاکستان نے انہیں ملزم کی گرفتاری کی خوشخبری سنائی۔

ان کا کہنا تھا کہ گفتگو کے دوران چیف جسٹس نے بتایا کہ قصور کی 8 سالہ زینب کا قاتل پکڑا گیا ہے جو بچی کا قریبی رشتہ دار ہے۔

زینب کو ایک ہفتے قبل اغوا کیا گیا تھا، پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج ملنے کے باوجود معصوم بچی کو بازیاب نہیں کراسکی تھی تاہم منگل کی شام اس کی لاش مقامی کچرا کنڈی سے ملی تھی۔

ملتی جلتی خبر: سرگودھا میں 16 سالہ لڑکی زیادتی کے بعد قتل

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں زینب کے ساتھ ایک سے زائد مرتبہ زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے۔

احمد رضا قصوری کا دعوی سامنے آنے کے کچھ ہی دیر بعد سپریم کورٹ ترجمان نے چیف جسٹس سے منسوب اطلاع کی تردید کر دی ہے۔

عوام کے شدید احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ کے بعد پنجاب حکومت نے زینب نے قاتل کی نشاندہی کرنے والے کے لئے ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا تھا۔

پھول سی معصوم زینب کے قتل کے خلاف شہر میں احتجاج دوسرے روز بھی جاری ہے۔

قصور پولیس کا کہنا ہے کہ 60 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزمان پر ایم پی اے کے ڈیرے پر گاڑیوں، سامان کو آگ لگانے کا الزام ہے۔

اس دورا مشتعل افراد نے رکن پنجاب اسمبلی نعیم صفدر انصاری کے دفتر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور ان کی دو گاڑیوں کو آگ لگادی۔

یہ بھی دیکھیں: فیصل آباد میں کمسن طالبعلم زیادتی کے بعد قتل

قصور شہرمیں مکمل ہڑتال ہے، مشتعل مظاہرین نے سول اسپتال کے سامنے اسٹیل باغ چوک کو چاروں اطراف سے بند کردیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق احتجاج کی وجہ سے قصور کا دیگر شہروں سے زمینی رابطہ بھی منقطع ہوگیا ہے۔

جمعرات ہی کو قصور کی ایک اور تحصیل پتوکی سے چھٹی جماعت کے طالبعلم کی لاش ملی ہے جسے زیادتی کے بعد قتل کیا گیا ہے۔

ایک روز قبل انسانی حقوق کے پاکستانی ادارے کی رپورٹ سامنے آئی تھی جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ یومیہ 11 بچے زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں