سعودی عرب میں خواتین ڈرائیورز کو ملازمت دینے کا اعلان

سعودی عرب میں خواتین ڈرائیورز کو ملازمت دینے کا اعلان

ریاض: دنیا بھرمیں مقبول رائڈ ہیلنگ یا سروسز اوبر اور کریم نے سعودی عرب میں بھی خواتین ڈرائیورز کو ملازمت دینے کا آغاز کر دیا ہے۔

اوبر اور کریم کی جانب سے اس بات کا فیصلہ سعودی حکومت کی جانب سے جون 2018 تک خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی کے خاتمے کے اعلان کے بعد کیاگیا۔

امریکی نیوز چینل سی این این کی جانب سے جاری اعداد و شمار کےمطابق اس وقت اوبر اور کریم کی سروس خواتین میں خاصی مقبول ہے، اس کا اندازہ اس بات سےباآسانی لگایا جاسکتا ہے کہ ابر کی 80فیصد جبکہ کریم کی 70 فیصد کسمٹرز خواتین ہیں۔

دنیا کے بیشتر ملکوں کی طرح اس وقت سعودی عرب میں دونوں کمپنیوں میں صرف مرد ڈرائیورز موجود ہیں۔

امریکی چینل کے مطابق کریم کی جانب سے ملازمت کے اعلان کے بعد خواتین کے لیے ریاض، جدہ سمیت مختلف سعودی شہروں میں تربیتی کلاسوں کا آغاز بھی کردیا گیا ہے جس میں پہلے ان خواتین کو موقع دیا جارہا ہے جن کے پاس کسی اور ملک کا ڈرائیونگ لائسنس موجود ہے۔

کریم کے شریک بانی عبداللہ الیاس نے ای میل میں پیغام دیا کہ ہم پہلے دن سے ہی خواتین ڈرائیورز کو اپنے پیلٹ فارم پر خوش آمدید کہنے کے خواہش مند رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کریم پہلے ہی ہزاروں خواتین کی درخواستیں وصول کرچکا ہے جو کریم کپتان بننے کی خواہاں ہیں۔

چند روز قبل سعودی عرب کی جانب سے یہ اعلان بھی سامنے آیا تھا کہ وہ سیاحت کے لئے آنے والی 25 سال زیادہ عمر کی خواتین کو ویزہ جاری کرے گا۔ اس سے قبل سعودی عرب آنے والی خواتین کے لئے لازم ہوتا تھا کہ وہ اپنے محرم کے ہمراہ آئیں۔

سعودی کمیشنز برائے ٹورازم اور قومی ورثہ کی جانب سے جمعرات کو سامنے آنے والے بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ 25 سال سے زائد عمر کی خواتین کو تنہا سعودی عرب آنے کے لئے سیاحتی ویزہ جاری کیا جائے گا۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *