میانمار فوج نے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کا اعتراف کر لیا

میانمار فوج نے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کا اعتراف کر لیا

نیپیدا: میانمار کی فوج نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ریاست راکھائن میں ہوئے قتل عام میں فوج نے بھی حصہ لیا۔

برما یا میانمار میں گزشتہ کئی برسوں سے روہنگیا مسلمانوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور اس میں براہ راست میانمار کی فوج ملوث رہی ہے تاہم یہ پہلا موقع ہے جب خود میانمار کے فوجی سربراہ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ فوج روہنگیا اقلیت کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لیتی رہی ہے۔

میانما ر کے فوجی سربراہ نے ریاست راکھائن میں مسلمانوں کی اجتماعی قبر کی موجودگی کا بھی اعتراف کیا،ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ گاوں انڈن میں سیکورٹی فورسز نے 10 روہنگیا مسلمانوں کو شہید کیا۔

اس قبر میں سے 10 انسانی ڈھانچوں کی دریافت کے بعد ہی میانمار کی سیکورٹی فورسز نے گاوں انڈن نے میں کی گئی کارروائی کا اعتراف کیا۔

انسانی حقوق سے وابستہ آزاد ادارے اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں اراکانی مسلمانوں کو زنددہ جلانے کے علاوہ ان کی کھالیں اتارنا، بچوں کو آگ میں پھینکنا اور قتل عام کے بے شمار واقعات فوج کی سرپرستی یا اس کی موجودگی میں ہوتے رہے ہیں۔

میانمار کے فوجی سربراہ نے فیس بک پر جاری پیغام میں کہا کہ 2 ستمبر 2017 کو کی گئی کارروائی میں 4 فوجی اہلکاروں نے 10 روہنگیا مسلمانوں کو نشانہ بنا یا۔اس بارے میں مزید تحقیقیات جاری ہیں۔

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے، گزشتہ برس اگست میں ہونے والے آپریشن اور پرتشدد واقعات میں 6700 روہنگیا مسلمانوں کو قتل کیا گیا تھا۔

میانمار کی حکومت ایسی کارروائی کا اعتراف نہیں کرتی بلکہ انہیں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن قرار دیتی رہی ہے۔

ریاست راکھائن مسلمان اقلیت کی وہ ریاست ہے جہاں انیں بنیاد حقوق بھی حاصل نہیں اور نا آج تک میانمار حکومت نے انہیں تسلیم کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ برس پر تشدد واقعات کے باعث6 لاکھ روہنگیا مسلمانوں نے بنگلہ دیش نقل مکانی کی۔

راکھائن سے ملحقہ ملک بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے افراد کا کہنا ہے کہ ہمارے دیہات لوٹ لیے گئے، گھر اور املاک جلا دی گئیں اور کوئی مدد کرنے والا نہیں۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *