فیصل آباد میں کمسن طالبعلم زیادتی کے بعد قتل

فیصل آباد میں کمسن طالبعلم زیادتی کے بعد قتل

فیصل آباد: پنجاب کے اہم صنعتی شہر فیصل آباد میں نویں جماعت کے ایک طالب علم کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔

پاکستان ٹرائب کو دستیاب اطلاعات کے کے مطابق مقامی پولیس نے پوسٹ مارٹم کے بعد لاش کو ورثا کے حوالے کر دیا ہے۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فیضان نامی طالبعلم کی موت تشدد اور گلا دبانے سے ہوئی ہے۔

بدھ کو سامنے آنے والی ابتدائی رپورٹ میں‌ مقتول کے سینے پر تشدد کے نشانات کی تصدیق کرتے ہوئے گردن کی ہڈی ٹوٹنے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

قبل ازیں معالجین کا کہنا تھا کہ بچے کو زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیا ہے۔

فیصل آباد پولیس کے مطابق 15 سالہ فیضان بشیر کی لاش گاؤں کے باہر کھیتوں سے ملی تھی۔

پنجاب ہی کے علاقے قصور میں‌ایک روز قبل ساڑھے چھ سالہ زینب کی لاش سامنے آئی تھی جسے زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔

افسوسناک واقعہ کی اطلاع سامنے آنے کے بعد مقامی آبادی نے مختلف مقامات پر احتجاج کیا جہاں‌ پولیس کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق جب کہ 3 زخمی ہو گئے تھے۔

قصور میں‌ درندگی کا نشانہ بننے والی معصوم زینب کی لاش کچرے کے ڈھیر سے برآمد ہوئی تھی۔

چیف جسٹس نے واقعہ کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی، آرمی چیف کی جانب سے بھی فوج کو سویلین انتظامیہ کی مدد کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔

انسانی حقوق سے وابستہ ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پاکستان بھر میں بچوں پر جنسی تشدد کے روزانہ 11 کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔ 2015 کے بعد سے قصور میں بچوں سے زیادتی کے 700 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

بچوں پر تشدد کے حوالے سے فعال اداروں کا کہنا ہے کہ کیسز کی تعداد پڑوسی اور ترقی یافتہ ممالک میں ہوئے ایسے واقعات سے کم ہے لیکن ایسے واقعات کا ہونا سخت تشویش کا باعث ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

One thought on “فیصل آباد میں کمسن طالبعلم زیادتی کے بعد قتل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *