وار آن ٹیرر: پاکستان نے جانی و مالی نقصان کی فیکٹ شیٹ جاری کردی

وار آن ٹیرر: پاکستان نے جانی و مالی نقصان کی فیکٹ شیٹ جاری کردی

واشگٹن:امریکا کی جانب سےعسکری امداد کی معطلی کے بعد پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں دی گئی قربانیوں اور جانی و مالی نقصان کی فیکٹ شیٹ جاری کردی ہے۔

پاکستان کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 14 برسوں میں 74 ہزار شہری شہید ہوئے جبکہ ملک کو ایک کھرب 23 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

رپورٹ میں تفصیلی طور پر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے کس طرح بھر پورانداز میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں شدت پسند افغانستان کے سرحدی علاقے میں موجود اپنے محفوظ ٹھکانے چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ رپورٹ امریکی سیاسی نقط نظر پر معمولی اثرات ہی مرتب کر سکے گی کیونکہ صورتحال کافی سنگین ہوچکی ہے

پاکستانی حکام کی جانب سے جاری دستاویز میں اے پی ایس حملے کا حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ پشاور حملے میں پاکستانی قوم نے 122 معصوم بچوں کی عظیم قربانی دی۔ اسکے بعد جس طرح پر زور انداز میں انسداد دہشتگردی آپریشن شروع کیے گئے انہوں نے دہشتگردوں کو بدترین جانی و مالی نقصان پہنچایا جو تاحال جاری ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ فاٹا میں دہشتگردوں کو شکست دینے اور علاقے میں قیام امن کے لیے پاکستانی فوج اور قوم نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔

فیکٹ شیٹ میں نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات کے تناظر میں دہشتگردی کے خلاف کیے گئے اقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ کس طرح دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کیے گئے اور انہیں آگے بڑھنے سے روکا گیا۔

اس ضمن میں بین الااقوامی ادارے انٹرنیشنل فیزیشن فار دی پریوینشن آف نیوکلئیروار کی ایک علحیدہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2003 سے 2015 کےدرمیان دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں 48 ہزار 504پاکستانی شہید ہوئے۔

فیکٹ شیٹ میں عالمی دہشت گردی انڈیکس (جی ٹی آئی) کا بھی ذکر کیا گیا جس کے مطابق 2014 سے قبائلی علاقوں میں جاری انسداد آپریشنز کے بعد پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں بڑی حد تک کمی ہوئی۔ جی ٹی آئی نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خاتمے اور کنٹرول میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔

نومبر2017میں شائع نیٹا سی۔کرافورڈ کی ایک تصنیف، اپ ڈیٹ آن دی ہیومن کاسٹس آف وار فار افغانستان اینڈ پاکستان،2001سے 2016 میں پاکستان کے اس دعویٰ کی تصدیق کی گئی ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف جنگ 2001 میں اس وقت شروع ہوئی جب امریکی حملے کے بعد القاعدہ اور طالبان پسپائی اختیار کرگئے اور انہوں نےپاکستان کے شمالی خطے کو اپنا مسکن بنایا ۔

مصنفہ نےاسلام آباد کے اس موقف کی تائید کی جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں ہونے والی لڑائی جیسے جیسے شدت اختیار کرتی گئی، ویسے ویسے اس کے اثرات پاکستان کے کے لیے شدید ہوتے گئے۔

نیٹا سی۔کرافورڈ نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ انسداد دہشتگردی جنگ میں پاکستان کو ہونے والے جانی و مالی نقصان کا تخمینہ نہیں لگایا گیا،تاہم انہوں نے ڈرون حملوں کا شکار پاکستانی شہریوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان حملوں میں جاں بحق پاکستانیوں کی تعداد 158 سے بڑھ کر 2 ہزار 657 ہوچکی ہے ۔

فیکٹ شیٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2014 میں شمالی وزیر ستان میں کیے گئے انسداد دہشتگردی آپریشن کے باعث ایک لاکھ شہری بے گھر ہوئے ،2001 سے 2015 کے دوران 8 ہزار 214 سیکورٹی اہلکار اور22ہزار ایک سو شہری شہید جبکہ 10 ہزار792 زخمی ہوئے۔

رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ اس جنگ میں نا صرف شہریوں اور سیکورٹی فورسز نے قربانیاں دیں بلکہ اپنے فرائض سرانجام دیتے ہوئے 58 صحافی اور 92 رضاکار بھی شہید ہوئے جبکہ 31 ہزار طالبان مارے گئے۔

پاکستان کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں پیش کردہ اعدادوشمار ایسے بھی ہیں جن میں کچھ کا ذکر خود امریکی صرر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی بھی کر چکے ہیں۔

حال ہی میں امریکی وزیر دفاع جمیز میٹس نے اس بات کی تائید کی کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو نیٹو اتحاد سےزیا دہ نقصان ہوا، اور یہ ہی بات امریکی وزیر داخلہ ریکس ٹیلرسن نے بھی تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کو سراہا۔

war on terror costs paid by pakistan | pakistantribe.com/urdu/دوسری جانب امور برائے جنوبی ایشیا کے معروف امریکی اسکالر ماروین ویمبون نے پاک امریکا تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکومت،میڈیا اور سماجی اداروں کے نقطہ نظر میں کوئی تسلسل نظر نہیں آتا۔

امریکی اسکالر نے فیکٹ شیٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاک امریکا پیغامات کا تبادلہ دوطرفہ نہیں ہو پاتا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی کانگریس، میڈیا، سماجی تنظمیں انتظامیہ کو پر زور انداز میں پاکستان کاموقف پیش کرتے ہیں تاہم یہ اتنا اثر انداز نہیں ہوتا کہ متعلقہ ادارے اور شخصیات پاکستان کی بات پر توجہ دیں۔

ماروین ویمبون نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستانی موقف کی حمایت میں کمی کی بڑی وجہ امریکی میڈیا کا غلط نقطہ نظر یا انداز ہے جہاں پاکستان کے بارے میں خبریں اس انداز سے پیش کی جاتی ہیں کہ اسلام آباد کا واشنگٹن پر منافی تاثر پڑتا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *