پاکستان کیلئے امریکی لہجہ تبدیل مگر ڈومور کا مطالبہ برقرار

پاکستان کیلئے امریکی لہجہ تبدیل مگر ڈومور کا مطالبہ برقرار

واشنگٹن: متعدد دھمکیوں کے بعد اپنے لہجے میں تبدیلی لاتے لیکن ڈومور کا مطالبہ برقرار رکھتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ ٹرمپ انظامیہ دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے پاکستان سے شراکت کیلیے تیار ہے۔

بظاہر لہجے میں تبدیلی کے باوجود امریکی رہنما نے اپنی پیشکش کو مشروط کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے لئے اسلام آباد کو بھی اپنی خواہش کا اظہار کرنا ہوگا۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں ریکس ٹلرسن نے لکھا کہ پاکستان کو اپنی سرزمین پر دہشت گرد تنظیموں کو روکنے میں ہماری مدد کرنی ہوگی۔

انہوں نے لکھا ہے’ ہم پاکستان سے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کی خاطر شراکت داری کے لئے تیار ہیں لیکن پاکستان کو بھی ہم سے شراکت داری کی خواہش کا اظہار کرنا ہوگا‘۔

پاکستان پہلے ہے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے یہ واضح کر چکا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی محفوظ پنا گاہیں نہیں ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے لکھا ہے کہ’اسلامی دہشت گردی اور انتہا پسندی‘ کو ختم کرنے کے لئے ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان پر مبنی نئی پالیسی بنائی جس کے تحت کسی ملک کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔

مجھے ہماری سفارت کاری پر فخر ہے’ کے عنوان سے چھپے مضمون میں ریکس ٹلرسن نے اعتراف کیا کہ 2017 میں امریکا کو شمالی کوریا، چین اور روس کے حوالے سے چیلنجز کا سامنا رہا۔

انھوں نے اوبامہ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے پر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اختلاف رائے کو واضح کیا۔

ریکس ٹلرسن نے کہا کہ ایران کے ساتھ کیا گیا متنازع جوہری معاہدہ اب ہماری ایران پالیسی کا حصہ نہیں ہے اور ہم اب ایرانی خطرے کا کھل کر سامنا کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ اپنے اتحادیوں اور کانگریس کے ساتھ مل کر ایران کے جوہری معاہدے کی خامیوں کو سامنے لاتے رہیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ ایران کو بیلسٹک میزائیل معاہدے کی خلاف ورزی اور خطے میں غیر مستحکم صورتحال پیدا کرنے پر سزا دینے کے لیے ہم خیال ممالک کے ساتھ مل کر کوششیں کر رہے ہیں۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

One thought on “پاکستان کیلئے امریکی لہجہ تبدیل مگر ڈومور کا مطالبہ برقرار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *