اسلام آباد کے تاجروں نے حکومت کو وارننگ دے دی

اسلام آباد کے تاجروں  نے حکومت کو وارننگ دے دی

اسلام آباد: پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کے تاجروں نے وفاقی حکومت کو خاصا پرانا مسئلہ حل کرنے کے لئے آخری مہلت دے کر راست اقدام کی دھمکی دی ہے۔

پاکستان ٹرائب اردو سروس کے نمائندہ کے مطابق آل پاکستان تا جر اتحاد کے مر کزی صدر محمد کاشف چوہدری نے وزیر اعظم پاکستان جناب شاہد خاقان عباسی اور وزیر قانون جناب بیرسٹر ظفر اللہ خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر قومی اسمبلی سے قانون کرایہ داری کا ترمیمی بل پاس کرنے کے احکامات جاری کریں اگر ایسا نہ کیا گیا تو وفاقی دارلحکومت کی تاجر برادری احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔

کاشف چوہدری کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں روزانہ کی بنیاد پر مختلف مارکیٹوں میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے اور بینر آویزاں کیے جائیں گئے۔ اور بروز منگل 19 دسمبر اسلام آباد کی تمام مارکیٹوں میں 2 سے 4 بجے تک علامتی شٹرڈاؤن ہو گا اور ہر مارکیٹ کے تاجر اپنی مارکیٹ کے قریب ترین چوک پر دھرنا دیں گے اگر پھر بھی ہمارا مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو اگلے لائحہ عمل کا اعلام 21 دسمبر کو کیا جائے گا جس میں اسلام آباد میں مکمل شٹر ڈاؤن کر کے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔

نیشنل پر یس کلب اسلام آباد میں کی گئی نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تاجر رہنمائوں نے حکومتی سستی کی وجہ سے درپیش مسائل کی نشاندہی بھی کی۔

پریس کانفرنس کے موقع پر محمد کاشف چوہدری کے علاوہ انجمن تا جران کے صدرا جمل بلوچ اسلا م آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ عامر وحید، چیمبر آف سمال ٹریڈرز کے سنئیر صدر سید عمران بخاری، آل پاکستا ن جمعیت القریش کے صدر خورشید قریشی اور دیگر بھی موجود تھے۔

محمد کاشف چوہدری نے کہا اسلام آباد کی تاجر برادری قانون کرایہ داری کے غیر منصفا نہ ہونے کی وجہ سے سخت پریشان ہے اور عدم تحفظ کا شکا ر ہے کوئی بھی تاجر جب اپنا کاروبار شروع کرتا ہے تو وہ ایک یا دو سال کے لیے نہیں کر تا لیکن بدقسمتی سے مالک جائیداد دو سال کا معاہدہ کرتا ہے۔ اور دو سال کے بعد جب کاروبار چل پڑتا ہے تو وہ کرایے میں کئی گْنا اضافہ کا مطالبہ کر دیتا ہے جس کی وجہ سے کرایہ دار تاجر بلیک میل ہو تا ہے اور اپنے کاروبار کو بچانے کے لیے مالک کے مطالبے کو مجبوراً پورا کرتا ہے۔

انھوں نے کہا جنرل پرویز مشرف نے 2001 میں اسلام آباد کے لیے قانون کرایہ داری کا آرڈینس جاری کیا تھا جو کہ سو فیصد مالکان کے حق میں ہے اور عدالتیں بھی مالک کے حق میں فیصلہ دینے پر مجبور ہیں۔آج تک کوئی بھی فیصلہ کرایہ دار کے حق میں نہ ہوا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قانون مکمل طور پر غیر منصفانہ ہے اس غیر منصفانہ کالے قانون کی وجہ سے جب سے یہ نافذ ہو اہے تقریباً اب تک دو ہزار سے زائد تاجر بے دخل ہو چکے ہیں اس کالے قانون کی وجہ سے مالک جائیداد نا جائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

کاشف چوہدری نے کہا پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اس وقت کے وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان نے مالکان کی ایسوسی ایشن تاجر تنظیموں و ضلعی انتظامیہ اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس کی مشاورت سے اسمبلی میں ایک ترمیمی بل پیش کیا لیکن اسمبلی کی مدت پوری ہونے تک یہ قانون پاس نہ ہو سکا۔ موجودہ حکومت میں ایم این اے میاں عبدالمنان اور اسلام آباد سے ایم این اے اسد عمر نے تقریباً وہی بل پرائیوٹ بل کے طور پر اسمبلی میں پیش کیا جس کی منظوری قائمہ کمیٹی اور ضلعی انتظامیہ دے چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی اور وزیر داخلہ احسن اقبال سے اپیل ہے کہ جب تک ترمیمی بل پاس نہیں ہو جاتا اس وقت تک I۔10 مرکز کے 48 تاجروں سمیت اسلام آباد کے کرایہ دار تاجروں کی جن کے خلاف بے دخلیوں کے آرڈر آ چکے ہیں ان تمام بے دخلیوں کو روک دیا جائے کیونکہ تاجروں نے بے دخلی کی صورت میں مزاحمت کا فیصلہ کیا ہے زبر دستی کی صورت میں تصادم کا بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *