پاکستانی شہری ٹی وی اینکر عامر لیاقت پر تاحیات پابندی کے لیے عدالت پہنچ گیا | pakistantribe.com/urdu

پاکستانی شہری ٹی وی اینکر عامر لیاقت پر تاحیات پابندی کے لیے عدالت پہنچ گیا

اسلام آباد: پاکستان میں ایک شہری کی جانب سے ٹی وی اینکر عامر لیاقت پر زندگی بھر کے لئے ٹیلی ویژن میزبانی پر پابندی لگانے کی غرض سے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا ہے۔

پاکستان ٹرائب کے نمائندہ اسلام آباد کے مطابق پاکستانی شہری کی درخواست میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین پر نفرت انگیز مواد کی اشاعت اور تفرقہ پھیلانے کا الزام لگایا گیا ہے۔

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین پر تاحیات پابندی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست درخواست محمد عباس نامی شہری نے ایڈوکیٹ شعیب رزاق کے توسط سے دائر کی۔

دائرکردہ درخواست میں وفاق سمیت پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) پاکستان ٹیلی کیمونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور عامر لیاقت کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ عامر لیاقت نام نہاد عالم ہے جس کے پاس اسلامی تعلیمات کی کوئی ڈگری نہیں، عالم آن لائن کے زریعے عامر لیاقت کئی برس سے مذہبی اور معاشرتی منافرت پھیلا رہا ہے۔

محمد عباس کی درخواست میں کئی دہائیوں سے خودساختہ جلاعطنی اختیار کئے ہوئے الطاف حسین اور ان سے الگ ہو جانے والی جماعت ایم کیو ایم کی خواتین کے بارے میں ایک پروگرام کے دوران عامر لیاقت پر غلیظ زبان استعمال کرنے کی شکایت کی گئی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ عامر لیاقت کفر اور غداری کے فتوی لگاتا ہے، ان فتوؤں سےکئی لوگوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔

درخواست میں یہ دعوی بھی کیا گیا ہے کہ عامر لیاقت ذہنی طو ر پر بیمار ہے۔

ایڈووکیٹ شعیب رزاق کے توسط سے دی گئی درخواست کے مطابق عامر لیاقت نے پیمرا کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے، یہ بھی یاد دلایا گیا ہے کہ حال ہی میں عامر لیاقت نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوۓ معافی مانگی ہے۔

درخواست گزار نے پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا سے متعلق معاملات کے ذمہ دار ادارے پیمرا کے متعلق موقف اختیار کیا ہے کہ وہ عامر لیاقت کے معاملے میں اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں واقعہ ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ عامر لیاقت کے لیے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر تاحیات پابندی لگائی جائے۔

دریں اثنا یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی اے کو سوشل میڈیا پر عامر لیاقت کے تمام اکاؤنٹ بند کرنے کا حکم جاری کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں