امریکا میں ٹیچر نے اللہ کہنے پر 6 سالہ بچہ پولیس کے حوالے کر دیا

امریکا میں ٹیچر  نے اللہ کہنے پر 6 سالہ بچہ پولیس کے حوالے کر دیا

ٹیکساس: بدامنی اور لاقانونیت کی شہرت رکھنے والی امریکی ریاستوں میں سے ایک ٹیکساس میں خاتون ٹیچر نے اللہ کہنے پر ذہنی معذور بچے کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

پاکستان ٹرائب ورلڈ ڈیسک کے مطابق امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک اسکول میں 6 سالہ بچے سلیمان کو اس وقت خاتون ٹیچر نے پولیس کے حوالے کیا جب اس مبینہ طور پر لفظ اللہ ادا کیا۔

خصوصی بچوں کے اسکول کی خاتون ٹیچر اور اسکول سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ سلیمان بول سکتا ہے۔

دوسری جانب ٹیکساس پولیس نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ 6 سالہ سلیمان ڈائون سینڈروم نامی ایک ایسی بیماری کا شکار ہے جس کی وجہ سے اس کی جسمانی و ذہنی افزائش رک گئی ہے۔

سلیمان کے والد کا مؤقف ہے کہ بچہ ڈاؤن سنڈروم نامی دماغی مرض میں مبتلا ہے اور وہ ذہنی طور پر مفلوج اور بولنے سے قاصر ہے لیکن پرائمری اسکول ٹیچر نے بچے کو دہشت گرد سمجھ کر پولیس کے حوالے کردیا جو خود کو انصاف کے علم بردار کہنے والے امریکا کے منہ پر طمانچہ ہے۔

امریکی ریاست ٹیکساس اور یو ایس اے کے جھنڈے | pakistantribe.com/urdu
امریکی ریاست ٹیکساس اور یو ایس اے کے جھنڈے

محمد سلمان کے والد مہر نے مزید کہا ہے کہ اس طرح کا رویہ امتیازی سلوک ہے، دوسری جانب امریکا میں بچوں کے حفاظتی ادارے (چائلڈ پروٹیکشن سروسز) اور پولیس اس واقعے کی تفتیش کررہے ہیں۔

ٹیکساس کے ایلیمنٹری اسکول میں پیش آئے حالیہ افسوسناک واقعہ سے کچھ عرصہ قبل اسی ریاست میں ایک نوعمر مسلمان طالب علم محمد کو بھی اس کے اسکول کی جانب سے پولیس کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

محمد پر دہشتگردی کا الزام لگاتے ہوئے کہا گیا وہ بم اسکول لایا ہے۔ حقیقت یہ تھی کمسن مسلم طالب علم کے پاس سے ڈیجیٹل گھڑی برآمد ہوئی تھی جو اس نے اپنے شوق اور محنت کو بروئے کار لا کر خود تیار کی تھی۔ انتہائی ذہین قرار دیے جانے والے محمد نے گھڑی اسکول لانے کی وجہ بتائی تھی کہ وہ اسے اپنے ٹیچرز اور ہم جماعت بچوں کو بتانا چاہتے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتہاپسندانہ پالیسیوں کے بعد امریکا میں مقیم تارکین وطن خاصے ہراساں نظر آتے ہیں جب کہ حکومت سطح پر امتیازی پالیسیوں کے خلاف مسلسل احتجاج میں بھی شدت آ رہی ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *