ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی مسلم مخالف مہم کا بھانڈا پھوٹ گیا

ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی مسلم مخالف مہم کا بھانڈا پھوٹ گیا

واشنگٹن: صدر بننے کے لئے انتخابی مہم سے ہی انتہا پسندانہ رجحانات کا مظاہرہ کرنے اور صدر بننے کے بعد انتہاپسندی کو نئی پستیوں تک لے جانے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی مسلم مخالف مہم کا مواد جعلی ثابت ہوا ہے۔

پاکستان ٹرائب ورلڈ ڈیسک کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی روایتی مسلم دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے انتہاپسند برطانوی رہنما کی جانب سے شئیرکردہ تین ویڈیوز کو ری ٹویٹ کیا۔ ایسا کئے کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ٹوٹر صارفین نے مذکورہ ویڈیوز پر اپنا ردعمل ظاہر کرنا شروع کیا۔

امریکا میں مقیم مقامی یونیورسٹی کے اسکالر، قانون دان اور سوشل ایکٹیوسٹ ارسلان افتخار نے مطالبہ کر ڈالا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلم دشمنی کی سازش پر مبنی ویڈیوز کو ٹویٹ کیا ہے جو جعلی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا کر کے ڈونلڈ ٹرمپ نے ناصرف ٹوٹر کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ امریکا میں مقیم 70 لاکھ سے زائد مسلمانوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالی ہیں لہذا ان کا ٹوٹر اکاؤنٹ معطل کیا جائے۔

ارسلان افتخار کے اس مطالبے کو کچھ ہی دیر میں 18 ہزار افراد نے ری ٹویٹ جب کہ 33 ہزار نے ری ٹویٹ کیا۔

پاکستانی ایوارڈ یافتہ صحافی ذوالفقار علی کے مطابق امریکی صدر نے بریٹن فرسٹ نامی انتہاپسند گروپ کی نائب سربراہ جائیڈا فرانسن کی شئیرکردہ ویڈیوز کو ری ٹویٹ کیا تھا۔

پہلی ویڈیو میں فرانسن نے دعوی کیا تھا کہ نقل مکانہ کرنے والا ایک مسلمان نیدرلینڈز میں ڈچ نوجوان شہری پر حملہ کر رہا ہے۔

اس دعوے کو خود ڈچ حکومت کی جانب سے غلط قرار دے دیا گیا۔

ڈچ پبلک پراسیکیوشن سروس کے ایک نمائندے نے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کو بتایا کہ ویڈیو میں حملہ کرنے والا فرد نیدرلینڈز میں ہی پیدا ہوا اور یہیں پرورش پائی وہ نقل مکانی کرنے والوں میں سے نہیں ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن میں ڈچ سفارتخانے نے بھی مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹوٹر پر براہ راست ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کر کے ان کے دعوے کو جھوٹ قرار دیا۔

دوسری ویڈیو میں دعوی کیا گیا ہے کہ حضرت مریم ؑ کے مجسمہ کو توڑا جا رہا ہے۔ انکشاف کے طور پر سامنے لائی گئی یہ ویڈیو 2013 سے یوٹیوب پر موجود ہے۔ اس میں نظر آنے والے فرد کی گفتگو ثابت کرتی ہے کہ وہ شام میں موجود ہے۔ تاہم یہ بات واضح نہیں کہ وہ کون ہے اور کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔

تیسری ویڈیو مصر میں 2013 کے دوران ہونے والے پرتشدد مظاہروں کی ہے جن میں اسکندریہ کے علاقے میں چند افراد ایک شخص کو چھت سے نیچا دھکا دیتے دکھائے گئے ہیں۔

اس ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کو 2015 میں سزا سنائی گئی تھی جب کہ ایک کو پھانسی دے دی گئی تھی۔

ذیل میں جیڈا فرانسس کی شئیرکردہ تینوں ویڈیوز کو ٹرمپ کی جانب سے ری ٹویٹ کئے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ جیڈا فرانسن کو ایک مسلم خاتون کو حجاب کی وجہ سے ہراساں کرنے کی پاداش میں برطانوی عدالت نے سزا سنا رکھی ہے۔ وہ انتہاپسند گروہ کے ارکان کے ساتھ مل کر مساجد پر حملوں میں ملوث رہی ہیں۔

برطانوی رکن اسمبلی جو ککس کو قتل کرنے والے تھامس مائر کے متعلق بھی یہ کہا جا چکا ہے کہ وہ 2 بچوں کی ماں کو قتل کرتے وقت بریٹن فرسٹ کے نعرے لگا رہا تھا۔ جیڈا فرانسن اسی گروہ کی نائب سربراہ ہیں۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *