شادی میں بلند آواز میوزک ہوا تو نکاح نہیں پڑھائیں گے، علماء کا اعلان

شادی میں بلند آواز میوزک ہوا تو نکاح نہیں پڑھائیں گے، علماء کا اعلان

پشاور: پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبرپختونخوا میں علماء نے اعلان کیا ہے کہ اگر شادیوں میں گانے بجائے کا معاملہ کیا گیا تو ایسی شادیوں میں نکاح نہیں پڑھائیں گے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے علماء کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ جن شادیوں میں لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اونچی آواز میں میوزک چلایا گیا وہ وہاں نکاح نہیں پڑھائیں گے۔

مولانا دوست محمد کے مطابق شادی بیاہ کے موقع پر لاؤڈ اسپییکر ایکٹ پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے 30 رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والی شادی کی تقریبات میں کوئی عالم نکاح نہیں پڑھائے گا۔ خلاف ورزی کے باوجود اگر کسی نے نکاح پڑھایا تو اس پر 10 ہزار روپے جرمانہ کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ عوام کے مفاد میں کیا گیا ہے توقع کرتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس لاؤڈ اسپیکر ایکٹ پر عملدرآمد میں معاونت کریں گے۔

پشاور کے مضافات میں رہنے والے افراد کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو متعدد شکایات کروائی گئی ہیں جن میں دیر گئے اونچی آواز میں میوزک بند کروانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مکینوں کا کہنا ہے کہ شادیوں کے موقع پر ساؤنڈ سسٹم کے ذریعے گانے بجانے سے ان کے معمولات متاثر ہوتے ہیں۔

ایک مقامی شہری کا کہنا تھا کہ لاؤڈ اسپیکر کی خلاف ورزی خلاف قانون ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق مقامی شہری کا کہنا تھا کہ میوزک کے ذریعے دوسروں کو تکلیف میں مبتلا کرنا نامناسب امر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاملے کو پشاور کے ڈپٹی کمشنر ثاقب رضا خان کے علم میں بھی لایا جا چکا ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے اس معاملے میں ہدایات جاری کیں لیکن اگلے ہی روز ان کا تبادلہ کر دیا گیا۔

ایک اور شہری سے منسوب شکایت میں کہا گیا ہے کہ شادیوں میں اونچی آواز میں میوزک بجانے سے ان کے بچے آدھی رات کو نیند سے جاگنے اور بے آرامی پر مجبور ہوتے ہیں۔

لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کے نفاذ کے باوجود متعدد مقامات پر یہ دیکھا گیا ہے کہ مساجد پر تو ایکٹ کی پابندی لازم کی جاتی ہے حتی کہ خلاف ورزی کی صورت میں گرفتاریاں تک بھی ہوتی ہیں لیکن شادی بیاہ یا دیگر مواقع پر انتہائی بلند آواز میں لچر حتی کہ انڈین میوزک تک استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس کا نوٹس نہیں لیا جاتا۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *