این اے فور میں الیکشن کمیشن، صوبائی حکومت نے بڑی دھاندلی کی، امیر مقام

این اے فور میں الیکشن کمیشن، صوبائی حکومت نے بڑی دھاندلی کی، امیر مقام

پشاور: مسلم لیگ نواز کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی امیر مقام کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے عملے اور صوبائی حکومت نے پشاور میں این اے فور کے ضمنی انتخابات کے دوران دھاندلی کی۔

پاکستان ٹرائب اردو سروس کے مطابق ن لیگی رہنما کی جانب سے یہ دعوی ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کی جماعت کے امیدوار ضمنی انتخاب میں بھاری ووٹوں سےشکست کھا کر تیسرے نمبر پر رہے ہیں۔

قبل ازیں انتخابی مبصرین کی جانب سے امیر مقام پر براہ راست یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ مقامی آبادی کو بجلی کے ٹرانسفارمرز اور گیس کنکنشن کا جھانسا دے کر ووٹ خریدنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

این اے فور کے ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدوار کی کامیابی کے بعد سامنے آنے والے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ

انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن کے بعدض حکام کے تعاون سے دھاندلی کی گئی ہے۔

امیرمقام نے بھاری دھاندلی کے ثبوت کے طور پر کہا کہ ووٹرز کے ٹرن آؤٹ اور کاسٹ ہونے والے ووٹوں کے درمیان بڑا فرق موجود ہے۔

یاد رہے کہ ضمنی انتخاب کی نگرانی کرنے والے غیرسرکاری ادارے فافن نے بھی جمعرات کی شام جاری کردہ ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا تھا متعدد پولنگ اسٹیشنز پر فی گھنٹہ کاسٹ ہونے والے ووٹوں کا تناسب بہت ذیادہ ہے۔

امیر مقام کا کہنا تھا کہ یہ الیکشن کمیشن کی ملی بھگت کے بغیر ممکن ہی نہیں، اس بات کا امکان ہے کہ نچلے درجے کے اہلکاروں نے ایسا کیا ہو، لیکن دھاندلی ہوئی ہے۔

پشاور پریس کلب میں جمعہ کو کی جانے والی نیوز کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے پلان اے، اس کی ناکامی کی صورت میں پلان بی اور اس کی ناکامی کی صورت میں پلان سی بنا رکھے تھے۔

انہوں نے کہا کہ وہ عمران خان اور پرویز خٹک کو اپنے منصوبوں پر عمل کرتے ہوئے دھاندلی کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی سے فوج کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ جمعرات کی صبح انتخابی عمل شروع ہونے سے کچھ دیر قبل پولنگ عملے کو تبدیل کر دیا گیا تھا۔

انہوں نے اچانک تبادلوں کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ سوریزئی پولنگ اسٹیشن کے پریزائنڈنگ افسر عبدالحکیم کو جمعرات کی صبح بتایا گیا کہ ان کی ڈیوٹی کہیں اور لگائی گئی ہے۔

یہ بھی دیکھیں: این اے فور ضمنی انتخاب میں امیدواروں کے حاصل کردہ ووٹ اور پارٹی پوزیشن

امیر مقام کا کہنا تھا کہ عبدالحکم کا معاملہ اکلوتا واقعہ نہیں ایسا متعدد اہلکاروں کے ساتھ کیا گیا ہے۔

امیر مقام کا کہنا تھا کہ انتخابی مراکز کے باہر قائم کیمپس خالی تھے تو پولنگ اسٹیشنز کے اندر موجود ڈبے بھرے ہوئے کیسے نکل آئے۔ میڈیا کو پولنگ اسٹیشنز کے اندر جانے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؟

صوبائی حکومت پر انتخابات سے قبل کی دھاندلی کا انکشاف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صوبے بھر سے تمام ٹھیکیداروں کو این اے فور طلب کیا گیا تھا جہاں فوری فوری ٹینڈر کر کے کام کروائے جاتے رہے۔

وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ انتخابات دراصل اے این پی اور ن لیگ کے درمیان مقابلہ تھا لیکن اچانک ایک فرد سامنے آتا ہے اور 45 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کر لیتا ہے، وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب ٹرن آؤٹ انتہائی کم رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2 ہزار یا 3 ہزار ووٹوں کی برتری قابل فہم تھی لیکن 21 ووٹوں کی لیڈ سے جیتنا ضرور سوال کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتخابات میں دھاندلی نہ ہوئی ہوتی تو وہ رابطہ کر کے پی ٹی آئی کے جیتنے والے امیدوار کو ضرور مبارکباد دیتے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *