مولوی قوی کے موبائل سے ٹوٹوں کی کہانی – رؤف کلاسرہ

مولوی قوی کے موبائل سے ٹوٹوں کی کہانی – رؤف کلاسرہ

خبر لگوائی گئی ہے کہ مولوی قوی کے موبائل سے چالیس ٹوٹے نکلے ہیں۔

ویسے آپ اپنے اور میرے موبائل چیک کرالیں تو واٹس ایپ پر بھیجی ہوئی ایسے ویڈیوز کلپ کی تعداد مولوی قوی سے زیادہ نکلے گی۔ سمجھدار ڈیلٹ کرتے رہتے ہیں۔ مولوی صاحب کو ڈیلٹ اپشن کا زیادہ علم نہ ہوگا۔

قوی ویسے پھنس گیا ہے یا اسے پھنسا دیا گیا ہے؟

اس قتل سے اس کا براہ راست کوئی تعلق نہیں لگتا۔ قندیل کے ماں باپ اس پر ڈال رہے ہیں تاکہ ان کا وہ بیٹا جس نے قتل کیا اس پر سے بوجھ کم ہو ورنہ سب جانتے ہیں اس بھائی نے اپنے پہلے بیان میں یہی کہا تھا بہن ہماری عزت خراب کررہی تھی اس لیے قتل کیا۔اور ماں باپ نے بھی یہ قتل اس پر ہی ڈالا تھا۔ کسی سمجھدار نے سمجھایا ہوگا مولوی پر ڈالو بڑا شوق تھا اسے سلفی کا۔۔

اب ہم سب کو چسکا لگ گیا ہے۔ اب یہ ایک المیہ سے زیادہ ایک مزاحیہ فلم بنا دی گئی ہے جو کھٹرکی توڑ ہفتہ منا رہی ہے۔۔ ورنہ میڈیا کا بھی قندیل قتل میں رول شاید مولوی قوی سے زیادہ ہے۔ میڈیا کو یہ فائدہ ہے یہ قتل کر کے بھی نہیں پکڑا جاسکتا۔ درجنوں ٹی وی شوز قندیل کو بٹھا کر بھی اس پر ایف ائی ار نہیں کٹ سکتی اور مولوی قوی ایک سلفی سیشن کر کے جیل بھیجا ہے۔

یہ فرق ہے ٹی وی سکرین اور مولوی کی سلفی میں۔۔ ایک سکرین لڑکی کو قتل کراسکتی ہے اوراس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور دوسری طرف ایک سلفی اپ کو پھانسی کے تختہ پر لٹکوا سکتی ہے۔۔ دیکھا جائے تو اصل قاتل میڈیا ہے۔۔ اور وہی میڈیا قندیل کو سکرین پر اتنا ایکسپوز کرنے اور اس کے قتل کی راہ ہموار کرنے بعد اب الٹا ثواب بھی لے رہا ہے۔۔

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *