گلنے سڑنے سے محفوظ ہمیشہ تازہ رہنے والا قطبی سیب متعارف

گلنے سڑنے سے محفوظ  ہمیشہ تازہ رہنے والا قطبی سیب متعارف

ہر فرد ہی اس بات سے واقف ہے کہ سیب کو کاٹ کر جیسے ہی رکھا جاتا ہے تو اس کے اندرونی حصوں پر داغ پڑنا شروع ہو جاتے ہیں جو اسے گلنے سڑنے کے عمل کا شکار کر دیتے ہیں۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے کینیڈین ماہرین نے کوششیں کیں جو بارآور ثابت ہوئی ہیں۔

پاکستان ٹرائب اردو سروس کو دستیاب معلومات کے مطابق حالیہ پیشرفت میں سیب کی ایسی قسم بنالی گئی ہے جو خراب نہیں ہوتی۔ سیب کی اس قسم کو ’’ آرکٹک ایپل‘‘ یعنی قطبی سیب کا نام دیا گیا ہے اور اسے کینیڈا کی ایک کمپنی سے تعلق رکھنے والے سائنس دانوں نے تیار کیا ہے۔

نئے تیار کردہ سیب کو عام افراد تک پہنچانے کے لئے منتخب اسٹوروں پر اس کی فروخت بھی شروع کردی گئی ہے۔

غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ سیب کو کاٹنےپر اس کے خلیات ٹوٹ جاتے ہیں۔ خلیوں کی شکست و ریخت کے بعد پولی فنول اوکسیڈاس ( پی پی او) نامی خامرہ ان میں ایک کیمیائی عمل کا آغاز کرتا ہے جس کے نتیجے میں سیب کا گودا داغ دار ہونے لگتا ہے۔

سیب کی کچھ اقسام مثلا گولڈن یا گاجا سیب میں یہ عمل دوسری قسموں کی نسبت تیزی سے وقوع پذیر ہوتا ہے۔

سیب کے گلنے سڑنے کا انحصار سیب میں موجود پی پی او کی مقدار پر ہوتا ہے۔ زیادہ مقدار کی حامل قسم میں یہ عمل تیزی سے ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق قطبی سیب اس پھل کی پہلی قسم ہے جس میں یہ عمل سرے سے ہوتا ہی نہیں ہے۔ سیب کی قاشیں کاٹ کر رکھ دی جائیں تو کئی دنوں تک ان پر داغ نمودار نہیں ہوتے اور یہ بالکل تازہ رہتی ہیں۔

قطبی سیب کینیڈین کمپنی اوکانانگن کے صدر نیل کارٹر اور اس کی بیوی لوئزا کی بیس سالہ محنت کا ثمر ہے۔ سائنس دانوں کی یہ جوڑی دو عشرے سے خراب نہ ہونے والے سیب پر تحقیق کررہی تھی۔

انھوں نے اس سیب کی پہلی کاشت 2003 ء میں کی تھی۔ چودہ سال تک وہ جینیاتی طور پر تیار کردہ سیب کے انسانی صحت اور ماحولیات پر اثرات کا جائزہ لیتے رہے۔ تمام متعلقہ دستاویزات اور شواہد انھوں نے امریکی محکمہ زراعت کو بھی پیش کیے، جن کا جائزہ لینے کے بعد محکمے نے قرار دیا ہے کہ قطبی سیب، سیبوں کی دیگر اقسام ہی کی طرح ہیں، بس یہ خراب ہونے اور گلنے سڑنے کی خامی سے پاک ہیں۔

نیل کارٹر کے مطابق قطبی سیب کے درخت عام سیبوں کے پیڑوں ہی کی طرح نمو پاتے ہیں، بس ان میں پی پی او کی مقدار برائے نام ہوتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں: یہ اسٹارٹ اپ اسلام آباد میں سبزیاں، فروٹس گھروں پر فراہم کرے گا

نیل کے مطابق انھیں ہمیشہ تازہ رہنے والے سیب کی تیاری کا خیال اس وقت آیا تھا جب پہلی بار اس کا جینیاتی نقشہ بنانے میں کام یاب حاصل کی گئی تھی۔ اس نقشے کی مدد سے انھوں نے چار جینز کی نشان دہی کی جو پی پی او کی پیداوار کے ذمہ دار تھے۔ انھوں نے ’’ جینز سائلنسنگ تیکنک‘‘ کی مدد سے ان جینز کو غیرفعال کردیا چناں چہ قطبی سیب میں اس خامرے کی پیدائش رُک گئی۔

نیل اور لوئزا نے کینیڈا میں چند اسٹورز کو قطبی سیب کی رسد شروع کردی ہے جب کہ آئندہ ماہ سے امریکا میں چار سو سے زائد سپراسٹورز پر بھی ان کی فروخت شروع ہوجائے گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ قطبی سیب اس پھل کے دلدادہ ملکوں میں سے ایک پاکستان کب تک پہنچتا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *