لائیو اپ ڈیٹس: پشاور #NA4 ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی نے میدان مار لیا

لائیو اپ ڈیٹس: پشاور #NA4 ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی نے میدان مار لیا

پشاور: ملک کے شمال مغربی صوبے خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 4 میں ضمنی انتخاب کے اب تک سامنے آنے والے غیرحتمی نتائج کے مطابق تحریک انصاف نے تقریبا کامیابی حاصل کر لی۔

مبصرین کے مطابق اگرچہ چند پولنگ اسٹیشنز کے نتائج آنا باقی ہیں تاہم پی ٹی آئی امیدوار کی حاصل کردہ برتری محفوظ مقام پر آچکی ہے جہاں انہیں شکست دینا ناممکن لگ رہا ہے۔

این اے 4 ضمنی انتخاب کے نتائج :

اب تک سامنے آنے والے کل 269 پولنگ اسٹیشنز میں سے 227 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی و غیرسرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے ارباب عامرایوب 39196 ووٹوں کے ساتھ پہلے جب کہ عوامی نیشنل پارٹی کے خوشدل خان 21348 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

ن لیگ کے ناصر موسی زئی ابتدائی نتائج کے بعد دوسرے نمبر پر رہے تاہم نتائج جوں جوں مکمل ہونے کے قریب آتے رہے وہ 21182 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر چلے گئے ہیں۔پیپلزپارٹی کے امیدوار اسد گلزار 11118 ووٹوں کے ساتھ چوتھی پوزیشن پر موجود ہیں۔

تحریک لبیک یا رسول اللہ کے حمایت یافتہ آزاد امیدوارعلامہ ڈاکٹر شفیق امینی 8581 ووٹوں کے ساتھ پانچویں، جماعت اسلامی کے واصل فاروق جان ایڈووکیٹ 6377 ووٹوں کے ساتھ چھٹی پوزیشن پر ہیں۔ ملی مسلم لیگ کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار 3309 ووٹ لے سکے ہیں۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی امیدوار ارباب عامر کے گھر کے قریب خوشی کے اظہار کے لئے کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں ارمڑ پایاں کے علاقے میں ایک نوجوان جاں بحق ہوا ہے۔ مقامی صحافی سید شبیر شاہ کے مطابق شدید فائرنگ ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب موقع پر قانون نافذ کرنے والےا داروں کے علاوہ منتخب نمائندے بھی موجود ہیں۔ فائرنگ سے شدید زخمی نوجوان کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

ایس ایس پی آپریشن سجاد خان نے نوجوان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جان جانے کی وجہ ہوائی فائرنگ نہیں بلکہ باہمی جھگڑا ہے جس کی ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے۔

یونین کونسل چمکنی کے پولنگ اسٹیشن کے بوتھ ون سے پہلا نتیجہ سامنے آیا ہے جہاں جماعت اسلامی کے امیدوار واصل فاروق چمکنی نے 99 ووٹ حاصل کئے ہیں۔ دوسرے نمبر پر اے این پی کے امیدوار خوشدل خان رہے جنہوں نے 64 جب کہ پی ٹی آئی کے امیدوار ارباب عامر نے 40 ووٹ حاصل کئے ہیں۔

یونین کونسل چمکنی بازار کے بوتھ تھری کے نتیجے کے مطابق جماعت اسلامی کے امیدوار نے 97 اے این پی نے 24 پی ٹی آئی نے 69 اور مسلم لیگ نے 45 ووٹ حاصل کئے ہیں۔

ناصر گڑگی پولنگ اسٹیشن یوسی 92 میں پی ٹی آئی پہلے اے این پی دوسرے اور مسلم لیگ نواز تیسرے نمبر پر ہے۔

گورنمنٹ ہائی اسکول گلشن رحمن کالونی کے پولنگ اسٹیشن کے نتیجہ کے مطابق پی ٹی آئی کے ارباب عامر نے 159 اے این پی کے خوشدل خان نے 119 ن لیگ کے ناصر خان نے 81 جماعت اسلامی کے واصل فاروق جان ایڈووکیٹ نے 15 جب کہ پیپلزپارٹی کے اسدگلزار نے 12 ووٹ حاصل کئے ہیں۔

بازید خیل میں تحریک انصاف پہلے ، ن لیگ دوسرے اور اے این پی تیسرے نمبر پر رہی ہے۔

غریب آبادی پولنگ اسٹیشن سے پی ٹی آئی کے امیدوار نے 355 ن لیگ نے 238 ووٹ لئے ہیں۔

توربابا پی ٹی آئی 276 کے ساتھ آگے اے این پی 176 کے ساتھ دوسرے ن لیگ 99 کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہے۔

گورنمنٹ پرائمری اسکول گڑھی قمر دین سے پی ٹی آئی  نے برتری حاصل کی ہے، ن لیگ دوسرے، اے این پی تیسرے نمبر پر رہی ہے۔

گورنمنٹ ہائی اسکول ادیزئی میں ن لیگ نے برتری حاصل کی ہے، تحریک انصاف دوسرے، پیپلزپارٹی تیسرے اور اے این پی چوتھے نمبر پر رہی ہے۔

متنی ہائی اسکول سے تحریک انصاف نے 269 ن لیگ کے امیدوار نے 169ووٹ لئے۔

گورنمنٹ ہائی اسکول بڈھ بیر سے اے این پی 383 ووٹوں کے ساتھ پہلے، پی ٹی آئی دوسرے، پیپلزپارٹی 75 اور مسلم لیگ نواز نے 85 ووٹ حاصل کئے۔ بڈھ بیر میں قائم دونوں پولنگ اسٹیشنز سے عوامی نیشنل پارٹی نے اکثریت حاصل کی ہے۔

شیخ محمد سے اے این پی پہلے، تحریک انصاف 305 کے ساتھ دوسرے اور ن لیگ کے امیدوار 209 کے ساتھ تیسرے اور جماعت اسلامی کے امیدوار چوتھے نمبر پر رہے۔

گورنمنٹ ہائی اسکول بڈھ بیر پولنگ اسٹین کے بوتھ نمبر 2 اے این پی 250ووٹوں کے ساتھ پہلے، ن لیگ دوسرے، تحریک انصاف تیسرے نمبر پر رہی ہے۔

ہزارخوانی بازار سول ڈسپنسری کے پولنگ اسٹیشن سے خواتین کے پولنگ اسٹیشن پر اے این پی نے 380 ووٹ لے کر برتری حاصل کی جب کہ مسلم لیگ نواز کے ناصر خان موسی زئی، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے امیدوار210 ووٹوں کے ساتھ پیچھے رہے۔

پولنگ اسٹیشن 243 سے پی ٹی آئی پہلے ن لیگ 135 کے ساتھ دوسرے اے این پی تیسرے نمبر پر ہے جب کہ ملی مسلم مسلم لیگ کے امیدوار نے چوتھی اور پیپلزپارٹی نے پانچویں پوزیشن حاصل کی ہے۔

2013 کے انتخابات میں امیدواروں کی پوزیشن
گزشتہ عام انتخابات میں اس حلقے میں ووٹوں کا ٹرن آوٹ تقریبا 40 فیصد رہا تھا۔ جس میں ایک خاتون امیدوار سمیت 13 امیدوار میدان میں تھے۔ ذیل میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے 6 امیدواروں کے نام، ان کی پارٹی وابستگی اور ووٹوں کی تعداد دی جا رہی ہے۔
گلزار خان (مرحوم) پی ٹی آئی 55134
ناصر خان مندوخیل (پی ایم ایل این) 20412
صابر حسین اعوان (جماعت اسلامی) 16493
ارباب محمد ایوب جان (اے این پی) 15795
ارباب کمال احمد (جے یو آئی ف) 12519
مصباح الدین (پیپلزپارٹی) 12031

جمعرات کو ہونے والے انتخابات کے موقع پر ٹرن آؤٹ کم رہا، ضمنی انتخاب کی روایت کے علاوہ کم ٹرن آؤٹ کا ایک سبب عام تعطیل نہ ہونا بھی بیان کیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما فضل الہی نے مسلم لیگ نواز پر دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حکمراں جماعت نے پی ٹی آئی کے ووٹوں میں ردوبدل کی ہے۔

ضمنی انتخاب کے دوران ایک مبینہ پولیس اہلکار کو بھی درجنوں جعلی ووٹ ڈالنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ واقعہ این اے فور کے پولنگ اسٹیشن بڈھ بیر پر پیش آیا۔

اے این پی کا کہنا ہے کہ مذکورہ اہلکار پی ٹی آئی کیلئے جعلی ووٹ ڈال رہا تھا، دوسری جانب پی ٹی آئی نے اے این پی پر خواتین کے پولنگ اسٹیشن پر جعلی ووٹنگ کا الزام عائد کیا ہے۔

این اے 4 ضمنی انتخاب کے دوران سخت پابندی اور بھاری سیکیورٹی کے باجود اسلحہ کی نمائش کو روکا نہیں جا سکا۔ پیپلزپارٹی خواتین ونگ کی صدر نگہت اورکزئی کاندھے پر کلاشنکوف ٹانگے پولنگ اسٹیشن کے باہر موجود رہیں۔

یونین کونسل اضاخیل میں خواتین کے پولنگ اسٹیشن پر مبینہ دھاندلی کی وجہ سے پولنگ روک دی گئی ہے۔ مقامی صحافیوں کے مطابق اے این پی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے دھاندلی کی جا رہی تھی جس پر اعتراض کیا گیا، نتیجتا ناخوشگوار صورتحال پیدا ہونے پر پولنگ روکی گئی ہے۔

جمعرات کو پولنگ شروع ہوئی تو این اے 4 میں صوبائی اسمبلی کے حلقے پی کے 10 میں واقع متعدد پولنگ اسٹیشنز پر 8 تا 10 بجے تک انتخابی عمل شروع نہیں کیا گیا تھا۔ ایسا ہونے کی وجوہات سامنے نہیں لائی گئیں۔

پاکستان ٹرائب اردو سروس کے مطابق این اے 4 ضمنی انتخاب کے لئے کل 269 پولنگ اسٹیشنزقائم کیے گئے ہیں جہاں 3 لاکھ 98 ہزارافراد اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

پی ٹی آئی کے امید وار ارباب عامر، اے این پی کے خوشدل خان، ن لیگ کے ناصر خان موسی زئی، جماعت اسلامی کے واصل فاروق چمکنی اور پی پی کے اسد گلزار سمیت کل 14 امید وار انتخابی دوڑ میں شامل ہیں۔

این اے 4 ضمنی انتخاب کے لئے انتظامات
صوبائی الیکشن کمشنر کے مطابق پولنگ اسٹیشن اسٹیشنز پر پاک فوج کے جوان اور پولیس تعنیات ہیں، ووٹرز کو سیکورٹی عملے نے موبائل پولنگ اسٹیشن کے اندر لے جانے سے روک دیا ہے۔

الیکشن کے لئے 17 سو فوجی جوان اور 7 ہزار پولیس اہلکار ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں جب کہ نتائج کے لئے پہلی بار الیکٹرانک مشین کا استعال کیا جارہا ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے اجازت نامے جاری ہونے کے باوجود میڈیا کے داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

Image may contain: 6 people, people smiling, people standing

این اے 4 ضمنی انتخاب کے لیے پولیس اسٹیشن بڈھ بیر کی عوام الناس کے لئے خصوصی ہدایات جاری کی گئیں ہیں، تمام انتخابی امیدواروں سے کہا گیا ہے کہ وہ پولنگ کیمپس پولنگ اسٹیشن سے کم از کم 200 میٹر کے فاصلے پر رکھیں۔

پولیس کے مطابق کسی قسم کا اسلحہ اپنے ساتھ نہ لائیں اور نہ ہی علاقے میں اسلحہ کے ساتھ پھریں، کالے شیے والی گاڑیوں اور موٹر سائکل کی ڈبل سواری ۔پربھی پابندی عائد کی گئی ہے، وووٹرز پاک آرمی ، پولیس عملہ اورپریزایئڈنگ آفیسر کے ساتھ تعاون کریں تاکہ الیکشن شفاف اورپرامن طریقے سے ہو سکے ۔

این اے 4 ضمنی انتخاب کیلئے جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران ضعیف العمر ، معذور اور خواتین کا خاص خیال رکھیں ، کوئی بھی غیر متعلقہ شخص خواتین پولنگ اسٹیشن میں نہیں جائے گا جب کہ پولنگ اسٹیشن کے قریب مشکوک شخص ، بیگ ، گاڑی، موٹر سائکل اور کوئی ایسی چیز نظر آئے توفورا پولیس کو اطلاع دیں۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

3 thoughts on “لائیو اپ ڈیٹس: پشاور #NA4 ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی نے میدان مار لیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *