دو اہم پاکستانی ادارے انٹرنیٹ پر قابل اعتراض مواد کی مشترکہ نگرانی کریں گے

دو اہم پاکستانی ادارے انٹرنیٹ پر قابل اعتراض مواد کی مشترکہ نگرانی کریں گے

اسلام آباد: پاکستان میں وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی کمیٹی میں شامل دو اہم ادارے انٹرنیٹ پر موجود قابل اعتراض مواد کی مشترکہ طور پر نگرانی کریں گے۔

پاکستان ٹرائب اردو سروس کے مطابق پاکستان ٹیلی کیمونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور فیڈر انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) انٹرنیٹ پر موجود قابل اعتراض موادکی مشترکہ نگرانی کا کام کریں گے۔

پی ٹی اے چئیرمین اسماعیل شاہ کی جانب سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کیمونیکیشن کو اس معاملے پر بریفنگ دی گئی۔

توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ وزارت داخلہ بھی جلد خصوصی کمیٹی کا حصہ ہو گی جس کے قیام کا نوٹیفیکیشن جلد جاری کر دیا جائے گا۔

چئیرمین پی ٹی اے کی جانب سے قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کے خلاف کیا کارروائیاں کی ہیں۔

کمیٹی کی جانب سے ایف آئی اے سے گستاخانہ مواد کے متعلق کارروائی پر استفسار کیا گیا تاہم وفاقی تحقیقاتی ادارے کا کوئی نمائندہ اجلاس میں موجود نہیں تھا۔ جس پر قائمہ کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔

قائمہ کمیٹی کی جانب سے ایف آئی اے کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ میٹنگ میں لازمی شرکت کر کے ارکان کو معاملے سے آگاہ کیا جائے۔

اسماعیل شاہ نے کمیٹی کو بتایا کہ 2012 کے بعد اب تک 17 ہزار 566 شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 188 گستاخانہ مواد کے متعلق تھیں۔

قائمہ کمیٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عدلیہ اور فوج کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاکستان کی سلامتی کو اندرونی و بیرونی خظرات لاحق ہیں۔

چئیرمین پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ متنازعہ مواد رکھنے والے اکاؤنٹس اور ویب سائٹس کو بلاک کر سکتا ہے۔

یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی موجودگی اور متعلقہ اداروں کی بے حسی کو دیکھ کر اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ میں دو درخواستیں دی گئی تھیں۔ عدالتوں نے پی ٹی اے کو ہدایت کی تھی کہ گستاخانہ مواد کے خاتمے کے لئے سائنٹیفک بنیادوں پر مستقل نظام وضع کیا جائے۔

پاکستان ٹیلی کیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر گستاخانہ مواد کے حوالے سے رہنما ہدایات اپ لوڈ کی گئی تھیں۔ ان میں سوشل میڈیا سائٹس کے ایسے لنکس بھی دیے گئے تھے جہاں کوئی بھی فرد غلط مواد کے خلاف براہ راست شکایت درج کر سکتا ہے۔

پی ٹی اے کی جانب سے ہائر ایجوکیشن کمیشن، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ایف آئی اے سے بھی درخواست کی گئی تھی کہ عام افراد کو آگاہ کرنے کے لئے یہ رہنما ہدایات اپنی ویب سائٹس پر بھی شائع کریں۔

پی ٹی اے کی جانب سے تمام اسٹیک ہولڈرز سے کہا گیا تھا کہ وہ متنازعہ مواد کے خلاف متعلقہ ویب سائٹس کو براہ راست شکایات کریں۔ اس کے نتیجے میں وقت کی بچت کے ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو براہ راست اپنی تشویش سے آگاہ کیا جا سکے گا۔ اگر جواب نہ آئے تو پی ٹی اے کو اس معاملے سے آگاہ کیا جائے۔

پی ٹی اے سے مشاورت کے بعد وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ‘متنازعہ مواد کے خاتمے اور بلاک کرنے کے قوانین 2017’ مرتب کئے تھے۔ الیکٹرانک جرائم کے خاتمے کے ایکٹ 2016 میں شامل کئے جانے کے لئے مذکورہ قوانین کابینہ سے منظوری کے انتظار میں ہیں۔

انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کیا جانے والا گستاخانہ مواد انسانی شمولیت کے بغیر شناخت کیا جانا ممکن نہیں تھا اس لئے پی ٹی اے کی جانب 25 آئی ٹی ماہرین پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ جس کے بعد ادارے کی جانب سے اب تک صرف 13210 لنکس کو بلاک کیا گیا ہے۔

ٹیکنالوجی اور امکانات کے موجودہ دور نے انتہائی اہم اور حساس معاملے پر اپنی بے بسی کا اظہار کرنے کے لئے پی ٹی اے حکام یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ ہر لمحہ کچھ نا کچھ نیا اپ لوڈ ہو رہا ہوتا ہے ایسے میں یہ ممکن نہیں کہ سارا گستاخانہ مواد ہٹا دیا جائے۔

پی ٹی اے کی جانب سے [email protected] کی ای میل بھی مشتہر کی گئی ہے تاکہ شکایات کی صورت میں اس پر رابطہ کیا جا سکے۔

کمیٹی کی جانب ٹیلی فون انڈسٹری آف پاکستان کے ملازمین کا معاملہ بھی آئندہ اجلاس میں زیربحث لانے کا فیصلہ کیا گیا جب کہ پی ٹی اے کو ہدایت کی گئی  کہ وہ بلیو وہیل گیم کے عذاب سے چھٹکارے کے لئے آگاہی مہم کا اہتمام کرے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *