پاناما فیصلے میں استعمال کی گئی اصطلاحات قانون کا حصہ نہیں، دانیال عزیز

پاناما فیصلے میں استعمال کی گئی اصطلاحات قانون کا حصہ نہیں، دانیال عزیز

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے نجکاری دانیال عزیز نے دعویٰ کیا ہے کہ پاناما پیپر کیس میں نواز شریف کو نا اہل قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ کی جانب سے دیئے گئے فیصلے میں استعمال کی گئی اصطلاحات قانون کے دائرہ کار میں نہیں آتیں جبکہ کچھ اصطلاحات آن لائن ڈکشنری سے لی گئی ہیں جو ان کے مطابق بار یا بینچ کے استعمال میں نہیں۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام کے مطابق دانیال عزیز نے پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاناما فیصلے میں پائے جانے والے تنازع کی نشاندہی کا دعویٰ کیا۔

وفاقی وزیر نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں قانون کی تعریف میں متنازع معاملات کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ 28 جولائی کے فیصلے میں 13ویں پیراگراف میں استعمال کیا گیا لفظ ‘ایسٹ’ یا اثاثے کا حوالہ دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی بلیک لاء ڈکشنری سے دیا گیا جبکہ بلیک لاء ڈکشنری کی تاریخ کے کسی ایڈیشن میں اس اصطلاح کا ایسا استعمال نہیں کیا گیا جیسا پاناما پیپر کیس کے فیصلے میں کیا گیا۔

دانیال عزیز نے دعویٰ کیا کہ فیصلے میں اصطلاح، اکاونٹس ریسیو ایبل اور ریسیو ایبل، میں الجھایا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک کے محصولات کے نظام پر اثر ڈال سکتا ہے۔

دانیال عزیز کے مطابق اکاونٹس ریسیو ایبل اکاونٹنگ کی ایک اصطلاح ہے جسے کسی ادارے میں استعمال کیا جاتا ہے اور اگر اسے الگ سے پڑھا جائے تو یہ اپنے معنی کھو دیتا ہے جبکہ ریسیو ایبل کسی شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریسیو ایبل کی اصطلاح بزنس ڈکشنری سے لی گئی ہے جو کہ ایک آن لائن ڈکشنری ہے اور انٹرنیٹ پر با آسانی دستیاب ہے۔

انہوں نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں قانون کی تعریف کے بارے میں مزید نشاندہی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس میں تضاد ہے، اگر ہم کہیں کہ یہ غلطی سپریم کورٹ کی جانب سے کی گئی ہے تو محصولات کا نظام خطرے میں ڈالنے کے بجائے انہیں مذکورہ اصطلاحات کو درست کرنا چاہیے۔

انہوں نے بزنس ڈکشنری کی اصطلاحات کے استعمال پر مزید سوالات کرتے ہوئے کہا کہ بار یا بینچ میں یہ اصطلاحات استعمال نہیں کی جاتیں یہاں تک کہ فیصلے میں مذکورہ ڈکشنری میں لکھی گئی تعریف کو بگاڑ دیا گیا ہے جو پوری قوم اثر انداز ہوگا۔

وفاقی وزیر کے خیال میں اس فیصلے سے ملک میں موجود محصولات کا تمام نظام تبدیل کرنا پڑے گا، انہوں نے کہا کے فیصلے میں موجود وضاحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 اور اس سے متعلقہ قوانین کی عکاسی کرتا ہے جو ایک اکاونٹنٹ، ٹیکس وکیل یا ٹیکس ماہرین کے لیے سر درد کا باعث ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ ٹیکس نظام پر پڑنے والے اثرات جانے بغیر سنا دیا۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *