ذکر کی بدولت فرشتے مدد پر کاربند \ pakistantribe.com/urdu

ذکر کی بدولت فرشتے مدد پر کاربند

اسلام آباد: ایک لڑکی رات کو دیر تک اپنی سہیلیوں کے گھر رکی رہی، جب اس نے وقت دیکھا تو تھوڑی سی پریشان ہوئی لیکن اسے بہت زیادہ فکر نہیں تھی کیونکہ اس کا گھر تھوڑے ہی فاصلے پر تھا، وہ پندراں منٹ چل کر واپس پہنچ سکتی تھی۔

جب ساری لڑکیاں چلی گئیں تو اس نے اپنی دوست کو خدا حافظ کہا اور وہ بھی نکل پڑی، رات کے دو بج رہے تھے اور باہر گھپ اندھیرا تھا، وہ جا رہی تھی کہ اسے ایک شارٹ کٹ یاد آگیا۔

وہ ایک دوسری گلی میں مڑ گئی، گلی کے آخر میں اسے ایک آدمی کھڑا نظر آیا تو وہ کافی فکرمند ہو گئی کہ اب کیا کیا جائے؟ اس نے کچھ دعائیں پڑھی اور خود پر پھونک لیں۔

ایک دم اس کو بہت تحفظ کا احساس ہوا اور اس کا خوف ختم ہو گیا، وہ آرام سے اس آدمی کے پاس سے گزر کر آگے بڑھ گئی۔

اگلے دن صبح ناشتے کی ٹیبل پر اس نے اخبار اٹھایا تو پہلی ہیڈ لائن پڑھ کر اسے سانپ سونگھ گیا، لکھا تھا کہ کل رات دو بجے اسی گلی میں ایک لڑکی کا ریپ ہوا تھا۔

اس لڑکی کے ادھر سے جانے کے کوئی دس منٹ بعد کسی اور لڑکی کے ساتھ ادھر یہ حادثہ رونما ہوا تھا۔

وہ اسی وقت اٹھی اور علاقائی تھانے چلی گئی، وہاں جا کر اس نے بتایا کہ وہ اس آدمی کو با آسانی شناخت کر سکتی تھی کیونکہ اس نے رات کو اسے اس گلی میں دیکھا تھا۔

پولیس والوں نے اسے تھانے میں اس کیس میں بند چار مشتبہ افراد دکھائے، اس آدمی کو دیکھتے ہی وہ پہچان گئی اور اس نے پولیس کو بتا دیا ۔

اس لڑکی کو مسلسل ایک سوال کھٹک رہا تھا، اس نے تھانیدار سے اجازت لی اور اس کے ساتھ جا کراس آدمی سے پوچھا کہ جب میں وہاں سے گزری تھی تو تم نے کیسے انسانی رویہ رکھ لیا تھا؟ اس پر وہ آدمی بولا کہ کیا بات کر رہی ہو میں تمہارے ساتھ کچھ کیسے کر سکتا تھا، تمہارے ساتھ اتنے لمبے لمبے دو آدمی بھی تو تھے۔

وہ لڑکی تو بالکل اکیلی تھی، یہ سن کر وہ لڑکی اللہ کا شکر ادا کرنے لگ گئی، اللہ ہر انسان کا خالق، مالک اور رازق ہے، کسی انسان کا کوئی وارث نہیں اگر اللہ اس کا والی نہ ہو تو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں