ختم نبوت کے متعلق گستاخانہ بیان، رانا ثناء اللہ پر پابندی لگا دی گئی

ختم نبوت کے متعلق گستاخانہ بیان، رانا ثناء اللہ پر پابندی لگا دی گئی

لاہور: ختم نبوت کے خلاف اور قادیانیوں کی حمایت میں ہرزہ سرائی کرنے پر وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ پر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے تاحیات پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

پاکستان ٹرائب اردو سروس کے مطابق رانا ثناء اللہ کی جانب سے مرتد قرار دیے جانے والے قادیانیوں کی حمایت کرنے کا بیان دیے جانے پر یہ اقدام کیا گیا ہے۔

جمعہ کو سامنے آنے والی تفصیل میں لاہوئی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے رانا ثناء اللہ کی رکنیت معطل کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

رانا ثناء اللہ نے یوم ختم نبوت کے موقع پر بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ احمدی (قادیانی) بھی نماز، روزہ کرتے اور مسجد جا کر اذان دیتے ہیں۔

پاکستان کے آئین میں متفقہ طور پر کافر قرار دیے جانے والے قادیانیوں کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ قادیانیت کا معاملہ خاصا پیچیدہ ہے جسے مختلف فورمز پر زیربحث لانا چاہئے۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ علماء کے مطابق قادیانیوں کو نماز، اذان اور مساجد کی تعمیر کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نہ ماننے اور اسرائیل کے انتہائی قریب سمجھے جانے والے گروہ کی حمایت کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کے بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پنجاب کے وزیر کی جانب سے سامنے آنے والے بیان کے بعد مختلف طبقہ ہائے زندگی کی جانب سے اسے انتہائی حساس موضوع کے متعلق کیا گیا انتہائی غیرذمہ دارانہ اور احمقانہ موقف قرار دیا جا رہا ہے۔

بیان کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج بھی کیا گیا جس میں مظاہرین نے رانا ثناء اللہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی اوقات اور عقل کے مطابق لب کشائی کریں تو بہتر رہے گا۔

احتجاج کے دوران مظاہرین کی جانب سے راناثناء اللہ کو عہدے سے برطرف کر کے گرفتار کئے جانے کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری نبی ہونا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ ان کے بعد کسی بھی شکل میں نبوت کا دعوی کفر اور گستاخی ہے جس پر پوری امت متحد ہے۔ اسی اتفاق کی وجہ سے پاکستان کا آئین بھی قادیانیوں کو کافر مانتا ہے۔ ایسے میں رانا ثناء نے شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بننے کی کوشش کر کے صریح گستاخی کا ارتکاب کیا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *