فلسطینی مسلم گروپس حماس اور الفتح میں مفاہمت ہو گئی

فلسطینی مسلم گروپس حماس اور الفتح میں مفاہمت ہو گئی

غزہ: طویل عرصہ سے اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف جدوجہد کرنے والے فلسطینی گروپ حماس اور آزادی کی دیگر کوششیں ترک کر دینے والے گروپ الفتح میں مفاہمت طے پا گئی ہے۔

پاکستان ٹرائب اردو سروس کو عالمی میڈیا سے دستیاب اطلاعات کے مطابق حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں گروہوں کے درمیان سیاسی معاملات پر مفاہمت ہو گئی ہے۔

اسماعیل ہانیہ کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں مصری کوششوں سے ہونے والے معاہدے کی دیگر تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

حماس کے ایک نمائندے سے منسوب علیحدہ خبر میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کی تفصیل کچھ گھنٹوں میں بعد قاہرہ میں نیوزکانفرنس کے دوران جاری کی جائیں گے۔

یاد رہے کہ حماس اور الفتح کے درمیان رواں ہفتے کی ابتداء یعنی منگل سے مصری دارالحکومت قاہرہ میں مذاکرات جاری تھے۔

ماضی میں بچے کچھے فلسطین کا حکمراں گروہ رہنے والے مغرب نواز الفتح سے غزہ کا علاقہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے دہشتگرد گروہ قرار دیے جانے والے حماس نے 2007 میں واگزار کروا لیا تھا۔

اس عرصہ میں حماس پر مسلسل اسرائیلی حملے جاری رہے ہیں جس کے نتیجے میں متعدد بار حماس کے مرکزی رہنما شہید ہوئے۔ فلسطین سے اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کی مضبوط علامت بن جانے والے غزہ کو اسرائیل کئی بار فوجی درندگی کا نشانہ بھی بناتا رہا ہے۔

حماس نے گزشتہ ماہ اس بات پر آمادگی ظاہر کی تھی کہ وہ غزہ کی حکومت الفتح کے حمایت یافتہ گروہ کو دینے پر آمادہ ہے۔

فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ہانیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے مصر کی کوششوں کے بعد حماس اور الفتح آج صبح (جمعرات) کو مفاہمت کے مرحلے تک پہنچ گئے ہیں۔

حالیہ مذاکرات کا مقصد پورے فلسطین پر متحدہ حکومت کا قیام ہے۔ 2014 میں بھی ایسا ہی معاہدہ ہوا تھا تاہم الفتح گروپ کی من مانیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے تحفظات کے نتیجے میں حماس نے غزہ کا کنٹرول ختم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

حماس کے ترجمان ہازم قاسم کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کے لئے خوشخبری کا درجہ رکھنے والے معاہدے پر عملدرآمد کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

مغربی میڈیا کا دعوی ہے کہ حماس کی جانب سے غزہ کا کنٹرول الفتح کی حمایتی حکومت کے حوالے کرنے پر رضامندی اپنے اہم اتحادی قطر کے مسائل کا شکار ہونے کے بعد ظاہر کی گئی ہے۔مغربی میڈیا کے مخصوص حلقے کا کہنا ہے کہ اس پسپائی کو اپنا کر حماس نے خود کو معاشی و سیاسی تنہائی سے بچانے کی کوشش کی ہے۔

مصرمیں حماس اور الفتح کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے دوران بارڈر کراسنگ سمیت سیکیورٹی اور انتظامی معاملات کے متعلق گفت و شنید کی گئی ہے۔

معاہدے کے مطابق الفتح حکومت کے تین ہزار اہلکار غزہ پولیس فورس کا حصہ بنائے جائیں گے۔ مغربی میڈیا کا دعوی ہے کہ اس معاہدے کے باوجود حماس 25 ہزار بہترین مسلح رضاکار رکھنے والا فلسطینی گروہ رہے گا جو 2000 کے بعد اب تک اسرائیل کے تین بڑے حملوں کا کامیابی سے سامنا کرچکا ہے۔

معاہدے کے نتیجے میں توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ مصر اور اسرائیل پابندیوں کو نرم کریں گے جس کے بعد غزہ کے طویل اقتصادی بائیکاٹ کا خاتمہ ہو سکے گا۔

اس سارے معاملے میں دلچسپ پہلو یہ ہے کہ فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کرنے والے اسرائیل کی جانب سے اس وقت عائدہ کردہ سخت ترین غیر انسانی پابندیاں الفتح کے زیرانتظام علاقوں کے لئے عائد نہیں کی گئیں۔ البتہ فلسطین سمیت قبلہ اول یعنی بیت المقدس کی آزادی کا واضح موقف رکھنے والے حماس کا طاقتور ہونا اسرائیل اور کچھ دیگر عناصر کو بالکل گوارہ نہیں۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *