کانگو: مچھلی کھلانے کے جرم میں خاتون کو سرعام جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا

کانگو: مچھلی کھلانے کے جرم میں خاتون کو سرعام جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا

کنشاسا: وسطی افریقہ کے ملک کانگو میں مچھلی کھلانے کے جرم میں باغیوں نے ایک خاتون اور اس کے سوتیلے بیٹے کو ایسی بھیانک سزا دے ڈالی ہے کہ سن کر روح لرز جائے۔
میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق کانگو کے شہر لوئبو میںیہ خاتون ایک ریسٹورنٹ چلاتی تھی جہاں کچھ شدت پسند کھانا کھانے گئے، کھانا کھانے کے بعد انہوں نے خاتون پر الزام عائد کر دیا کہ اس نے انہیں مچھلی کھلا دی ہے۔

اس پر شدت پسندوں نے خاتون اور اس کے سوتیلے بیٹے کو گرفتار کر لیا اور برہنہ کرکے شہر کے مرکزی چوک میں لیجاکر کھڑا کر دیا۔

وہاں انہوں نے پہلے ماں بیٹے کو ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا، پھر بیٹے کو ماں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے پر مجبور کیا اور پھر دونوں کا سرقلم کرکے ان کا خون پی گئے۔

عینی شاہدین کے مطابق سینکڑوں لوگ وہاں جمع تھے جنہوں نے یہ انسانیت سوز واقعہ دیکھا، شدت پسند 20سالہ لڑکے کے کٹے سر کے ساتھ تصاویر بھی بنواتے رہے۔

شدت پسندوں نے دو روز تک ماں بیٹے کی لاشیں وہیں چوک میں پڑی رہنے دیں تاکہ دوسرے عبرت حاصل کریں اور پھر انہیں مقامی قبرستان لیجا کر دفن کر دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ان باغیوں نے خاتون کو مچھلی کھلانے کے جرم میں اس لیے بربریت کا نشانہ بنایا کیونکہ کانگو کی روایات کے مطابق جب وہ حالت جنگ میں ہوتے ہیں تو نہ وہ خواتین کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرتے ہیں، نہ نہاتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کا گوشت کھاتے ہیں۔

یاد رہے کہ کانگو کے ایک قبیلے کے سربراہ کیموینا نساپو نے صدر جوزف کبیلہ کی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی تھی جس پر اگست 2016ءمیں فوج نے آپریشن کرکے اسے ہلاک کر دیا تھا۔

اس کے بعد بغاوت کی یہ تحریک پھیل گئی اور رواں سال 31مارچ کو اس باغی گروہ نے کانگو کے 40ہزار آبادی کے شہر لوئبو پر قبضہ کر لیا تھا تاہم فوج نے 19اپریل کو شہر ان کے قبضے سے واگزار کروا لیا۔

اس دوران شدت پسندوں نے شہر میں 10لوگوں کو بے رحمی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا جن میں اس شہر کے ایڈمنسٹریٹر کی بیوی بھی شامل تھی۔

مذکورہ واقعہ بھی اسی عرصے کے دوران پیش آیا تھا تاہم اس کی ویڈیو واٹس ایپ پر گردش کرتی ہوئی اب منظرعام پر آئی ہے۔

کانگو میں ہونے والی یہ بغاوت ایک سال سے کم عرصے میں 3300افراد نگل چکی ہے جبکہ 14لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں، اب تک کانگو کے اس علاقے میں 80اجتماعی قبریں دریافت ہو چکی ہیں۔

 

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *