اے لیول اسٹوڈنٹس پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم حاصل نہیں کر سکیں گے

اے لیول اسٹوڈنٹس پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم حاصل نہیں کر سکیں گے

اسلام آباد: ثانوی درجے کی تعلیم کے مقبول ترین ذریعوں میں شامل برطانوی قدیم طرز تعلیم اے لیول کے طلبہ و طالبات اب پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم حاصل نہیں کر سکیں گے۔

پاکستان ٹرائب اردو سروس کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) سے دستیاب معلومات کے مطابق یہ پیشرفت ادارے کے حالیہ فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے۔

نمائندہ پاکستان ٹرائب کے مطابق پی ایم ڈی سی کی حالیہ میٹنگ میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ آئندہ اے لیول کرنے والے طلبہ و طالبات کو پاکستان میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس میں داخلے کا اہل نہیں مانا جائے گا۔

یاد رہے کہ اے لیول یا ایڈوانسڈ لیول کے تحت طلبہ و طالبات مختلف مضامین کی بنیاد پر جنرل سرٹیفیکیٹ برائے تعلیم (جی سی ای) حاصل کرتے ہیں۔ اور اور اے لیول دونوں کے امتحانات برٹش کونسل کے تحت لئے جاتے ہیں۔

ماہرین تعلیم خاصے عرصے سے اس طرز تعلیم پر سوال اٹھارہے تھے۔ او اور اے لیول کو غیرمتعلق ماننے والوں کا کہنا تھا کہ خود برطانیہ میں بھی اس سے بہتر طرزہائے تعلیم کو رواج دیا جا چکا ہے، ایسے میں فرسودہ ہو جانے والے نظام پر انحصار نہ کیا جائے۔

دوسری جانب پاکستان میں او اور اے لیول کو اب تک اعلی معیار کی ثانوی تعلیم تصور کیا جاتا ہے۔ معروف اور بڑے تعلیمی اداروں اور اسکول و کالجز کی چینز بھی او اور اے لیول کو زیادہ ترجیح دیتے رہے ہیں۔

وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ کی سربراہی میں ہونے والی پی ایم ڈی سی میٹنگ میں طے کیا گیا ہے کہ اکتوبر 2016 کے قوانین کی منظوری کے بعد سے ای لیول کرنے والے طلبہ کسی نجی میڈیکل کالج میں داخلہ نہیں لے سکتے۔

یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ سرکاوی و نجی میڈیکل کالجز میں بیرون ملک کوٹہ پر کسی طالب علم کو داخلہ نہیں دیا جائے گا جب تک وہ مستقل بیرونی شہریت یا دوہری شہریت کا حامل نہ ہو۔

میٹنگ کے فیصلے کے مطابق بیرون ملک سے سیکنڈری اسکول سرٹیفیکیٹ (ایس ایس سی) یا ہائر سیکنڈری اسکول سرٹیفیکیٹ ( ایچ ایس سی سی) یا اس کے مساوی تعلیم حاصل کرنے والوں کے علاوہ کسی کو داخلہ نہیں دیا جائے گا۔

وزیرصحت کا کہنا تھا کہ اس سے قبل پاکستان میں طبی تعلیم کے لئے داخلہ لینے والے اے لیول پاس طلبہ و طالبات 2013 میں منظور کردہ قوانین کے تحت مستفید ہوتے تھے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی قومیت رکھنے والے وہ طالبعلم جنہوں نے کسی دوسرے ملک سے انٹرمیڈیٹ کے مساوی ایسا سرٹیفیکیٹ لیا ہو گا جس میں بیالوجی، کیمیا لازمی مضامین کے طور پر پڑھے ہوں گے وہی داخلہ کے اہل ہوں گے۔

یاد رہے کہ 2013-14 میں 41 ہزار 677 اے لیول پاس طلبہ و طالبات نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کے لئے رجوع کیا تھا جن میں سے سات اعشاریہ 2 یعنی 2981 کو ایف ایس سی کے بغیر والی کیٹیگری میں شامل کرکے داخلوں کا اہل نہیں مانا گیا تھا۔

پی ایم ڈی سی کی جانب سے منظور کردہ حالیہ قوانین کے بعد اے لیول کرنے والے طلبہ و طالبات کا مستقبل خطرے کا شکار ہو گیا ہے۔ ان اسٹوڈنٹس کی تعداد ماضی کی 7 اعشاریہ 2 سے کم ہو کر 6 اعشاریہ 7 ہو چکی ہے۔

یاد رہے کہ ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے نئے داخلوں کے لئے انٹری ٹیسٹ رواں ماہ منعقد ہونے ہیں تاہم والدین کی بڑی تعداد اے لیول سرٹیفیکیٹ کی عدم قبولیت کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *