لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کی قبل از وقت رٹائرمنٹ کی وجہ سامنے آگئی

لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کی قبل از وقت رٹائرمنٹ کی وجہ سامنے آگئی

لاہور : معروف کالم نگار، مکرم خان نے چینل ۵ کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کی سروس میں ایک سال باقی تھا، راحیل شریف نے انہیں ڈی جی آئی ایس آئی لگایا تھا، بھارت، افغانستان میں لوگوں کو شاید اپنی خفیہ ایجنسیوں کے ارکان کے نام تک پتہ نہیں ہوتے، ہمارے یہاں تبصرے اور تجزیے شروع ہو جاتے ہیں۔ ہمیں ہرگز ان پر گفت و شنید نہیں کرنی چاہئے۔

معروف کالم نگار سجاد بخاری نے پروگرام کے دوران کہا جنرل رضوان اختر کا اپنا ذاتی فیصلہ تھا، وہ آئی ایس آئی کے سربراہ رہے، ڈان لیکس میں وہ مین کردار تھے، اس کے بعد انہیں پریذیڈنٹ این ڈی یو بنا دیا گیا، انہیں ڈان لیکس کی سزا دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے جرنیلوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بہت اچھی اچھی آفر ہوتی ہیں شاید انہوں نے سوچا ہو کہ یہاں سے آگے تو فیلڈ میں جانے کا چانس نہیں بہتر ہے کہ استعفیٰ دے کر کوئی چانس لے لیا جائے، ایک وردی اتار کر دوسری وردی پہننا چاہتے ہیں۔

سجاد بخاری کا کہنا تھا کہ ڈان لیکس پر شاید ان کی شہباز شریف صاحب سے اعزاز چودھری اور فاطمی صاحب کے ساتھ جھڑپ ہوئی تھی۔

معروف کالم نگار توصیف احمد خان نے کہا ہے کہ جنرل رضوان اختر کی ریٹائرمنٹ سے لگتا ہے کہ وہ ”ڈل لائف“ سے تنگ آ کر مستعفی ہوئے ہیں، پریذیڈنٹ این ڈی یو بھی انتہائی اہم پوسٹ ہے لیکن فیلڈ کی بات اور ہوتی ہے، ابھی وہ کم عمر ہیں تھکاوٹ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔

یاد رہے صدر نیشنل ڈیفنس یونی ورسٹی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے ہیں ۔

رضوان اختر کو فوج کے قابل ترین افسروں میں مانا جاتا ہے، وہ دوران ملازمت ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی رینجرز سندھ سمیت دیگر اہم عہدوں پر فائز رہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

One thought on “لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کی قبل از وقت رٹائرمنٹ کی وجہ سامنے آگئی

  1. your newspaper has consealed the facts about rawzwan akhtar ,your newspaer has some fear if ins[pite of rawzan any other person is under discussion you have disclose different story shame on your paper for not telling truth;.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *