دفتری کپ میں چائے یا کافی پینے والے ہشیار

دفتری کپ میں چائے یا کافی پینے والے ہشیار

ایریزونا: اکثر افراد کو دفتر میں پہنچتے ہی چائے یا کافی کی طلب ستانے لگتی ہے اور وہ ان گرم مشروبات کو نوش کرکے دن کا آغاز کرتے ہیں،جو لوگ ایسا کرتے ہیں تو ایک بار پھر سوچ لیں کیونکہ یہ کوئی زیادہ اچھی عادت نہیں۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام ہیلتھ ڈیسک کے مطابق ایریزونا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دفاتر میں موجود جو کپ یا مگ چائے اور کافی پینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، ان میں سے لگ بھگ 90 فیصد بیمار کردینے والے جراثیموں سے بھرے ہوتے ہیں اور بیس فیصد میں تو انسانی فضلہ بھی ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ کپ یا مگ کو دھونے کے لیے استعمال ہونے والا اسفنج دفاتر میں بہت کم تبدیل ہوتا ہے اور اس میں موجود جراثیم اور انسانی فضلے کے اجزاءبرتنوں میں منتقل ہوجاتے ہیں۔

ان کپوں میں ای کولی نامی جراثیم ہوسکتا ہے جو کہ ہیضے، قے، معدے میں درد اور بخار کا باعث بن سکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ دفاتر میں کچن کی ناقص صفائی اور مشروبات کی تیاری کا عمل مختلف امراض کو پھیلانے کا باعث بن سکتا ہے۔

محققین نے تو انتباہ کیا ہے کہ بدترین حالات میں گردے فیل ہونے کا خطرہ بھی ہوسکتا ہے تاہم اس کا سامنا بہت کم افراد کو ہوتا ہے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ لوگ دفاتر میں اپنا کپ خود لے کر آئیں اور واپس بھی لے جائیں اور اسے اچھی طرح دھوئیں یا دفاتر میں صفائی کے معیار کو بہتر بنائیں۔

تحقیقی ٹیم نے دفتری کپوں میں پانچ سو سے زائد جراثیم دریافت کیے جو کہ انسانی جلد، ناک، منہ اور انتڑیوں سے وہاں منتقل ہوئے۔

 

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *