امریکی دھمکیاں یکسر نظرانداز، ایران نے ایک اور میزائل تجربہ

امریکی دھمکیاں یکسر نظرانداز، ایران نے ایک اور میزائل تجربہ

تہران: ایران نے واشنگٹن کی جانب سے خبردار کیے جانے کے باوجود درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا کامیاب تجربہ کرلیا۔

ہفتے (23 ستمبر) کے روز ایران کے سرکاری میڈیا نے ’خرمشہر‘ نامی اس میزائل داغے جانے کی فوٹیجز نشر کیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز (22 ستمبر) ہی تہران میں ہونے والی ہائی پروفائل ملٹری پریڈ میں اس میزائل کی رونمائی کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ ایران کو اس سے قبل کیے جانے والے میزائل تجربوں کے نتیجے میں امریکی پابندیوں اور الزامات کا سامنا کرنا پڑ چکا ہے۔

امریکا کی جانب سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ ایران کے یہ تجربات تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی روح کے منافی ہیں۔

مذکورہ معاہدہ کئی سالوں پر محیط مذاکرات کے بعد عمل میں آیا تھا اور اس معاہدے کے متبادل کے طور پر ایران پر لگائی گئی پابندیاں اٹھا لی گئی تھیں۔

گذشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دھمکی دی تھی کہ وہ میزائل تجربات کے معاملے پر اس معاہدے کو ردی کی ٹوکری کی نذر کردیں گے۔

19 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے افتتاحی سیشن میں خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ ‘شرمناک’ اور عالمی طور پر ‘بدترین’ معاہدہ تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران ایران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام بھی لگایا تھا۔

امریکی صدر 15 اکتوبر کو کانگریس کو آگاہ کرنے والے ہیں کہ آیا ایران جوہری معاہدے کے مطابق عمل کررہا ہے یا نہیں۔

اگر وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ایران معاہدے پر عملدرآمد میں ناکام ہے تو یہ فیصلہ نئی امریکی پابندیوں اور معاہدے کے خاتمے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

 

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *