جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی کے استعفی کی وجہ منظر عام پر

جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی کے استعفی کی وجہ منظر عام پر

پشاور: اپنی خواہش کے مطابق آئندہ انتخابات کے لئے ٹکٹ نہ ملنا جماعت اسلامی سے علیحدگی کا اعلان کرنے والے رکن قومی اسمبلی شیر اکبر خان کے پارٹی چھوڑنے کی وجہ بنا ہے۔

پاکستان ٹرائب اردو سروس کو اعلی سطحی سیاسی ذریعے سے دستیاب اطلاع کے مطابق رکن قومی اسمبلی شیر اکبر خان اپنے بیٹے کے لئے جماعت اسلامی کا ٹکٹ حاصل کرنے کے خواہاں تھے۔

خیبرپختونخوا میں آئندہ انتخابات کے لئے امیدواروں کا چناؤ مکمل کرنے والی جماعت اسلامی نے کمزور کارکردگی کے حامل موجودہ اراکین اسمبلی کو بھی ٹکٹ دینے سے احتراض کیا ہے۔اس دوران تنظیمی فیصلوں کے برخلاف انتخابی ٹکٹ کے خواہشمندوں کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے۔

اعلی سطحی ذریعے کا کہنا ہے کہ شیر اکبر خان کی کارکردگی کو مدنظر رکھ کر کئے گئے تنظیمی فیصلے کے تحت انہیں بیٹے کے لئے صوبائی نشست کا ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ ان کی خواہش تھی کہ آئندہ انتخابات میں ان کے بیٹے کو بھی صوبائی اسمبلی کے نشست پر جماعت اسلامی کا امیدوار نامزد کیا جائے۔

پاکستان ٹرائب کو دستیاب معلومات کے مطابق شیراکبر خان نے چند ماہ قبل بھی یہ تاثر پیدا کیا تھا کہ وہ تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کر رہے ہیں۔ تاہم اس دوران عائشہ گلالئی کی علیحدگی کا معاملہ سامنے آنے کی وجہ سے یہ نظر انداز ہو گیا۔

اس بار شیر اکبر خان نے جماعت اسلامی سے مستعفی ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی رکن نے انہیں پارٹی فنڈز کے بارے میں اعتماد میں نہیں لیا۔ انہوں نے قول و فعل میں تضاد کی نشاندہی بھی کی۔

شیراکبر خان معاملے سے جڑے باخبر ذریعے کا کہنا ہے کہ کمزور کارکردگی کے ساتھ بیٹے کے لئے ٹکٹ مانگنے پر جماعت اسلامی کی قیادت نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا تھا۔ جس کے بعد ان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔

سابق رکن صوبائی اسمبلی جمشید خان اور موجودہ رکن قومی اسمبلی شیراکبر خان کی جانب سے جماعت اسلامی چھوڑنے کے اعلان کے باوجود جماعت اسلامی کی جانب سے فیصلے میں نرمی نہ کرنے کو سیاسی حلقے مختلف حوالوں سے دیکھ رہے ہیں۔

خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر سے رکن قومی اسمبلی رہنے والے شیر اکبر خان کے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے صحافی ارشداللہ کا کہنا تھا کہ پارٹی ٹکٹ کی تقسیم جماعت اسلامی کا تنظیمی فیصلہ ہی مانا جاتا ہے۔ اس کلچر کے خلاف لابنگ کرنے کی کوشش کے باوجود شیراکبر خان کا ناکام رہنا بتاتا ہے کہ خیبرپختونخوا میں جماعت اسلامی کچھ نیا کرنے کی تیاری کر چکی ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *