پاکستانی نوجوان کا مستقبل

پاکستانی نوجوان کا مستقبل

1۔ جمہوریت (جیسی ہے) بالکل ٹھیک چل رہی ہے، وزراء کی پرفارمنس پہلے سے بہتر ہو گئی ہے، وزارت خارجہ فنکشنل نظر آرہی ہے، امن وامان بھی ٹھیک ہے، وزراء کے چہروں پر اطمینان کی جھلک آسانی سے دیکھی جاسکتی ہے، کئی تو آف دی ریکارڈ گفتگو میں شکر ادا کرتے ہیں کہ چلو پارٹی پر ایک خاندان کی آمریت سے کچھ عرصے کے لئے سکون کا سانس میسر آیا۔

اور تو اور وزیراعظم قومی اسمبلی آتے ہیں اور کمیٹی اجلاسوں میں بھی شرکت کرتے ہیں ( لیکن قومی مسائل کے حل کے وژن سے محروم ہیں) نواز شریف اور ان کا خاندان مستقل طور پر اداروں پر حملہ آور ہے ۔

کرپشن کے الزامات کا جواب الزامات در الزامات سے دیا جا رہا ہے، بیماری اور مظلومیت کے بل پر ہمدردی کے ووٹ مانگے جا رہے ہیں اور کچھ نابغے صحافی اور اینکر کیوں نکالا کی قوالی میں ہمنوا بن کر قوم کا وقت ضائع کر رہے ہیں، ذاتی مفاد کی خاطر ملک کے اصل۔مسائل کو چھوڑ کر ایجنڈا سیٹنگ میں لگے ہوئے ہیں ۔

2۔ ادھر عمران خان کی تبدیلی کا نعرہ فلاپ ہو گیا ہے، نوجوان کو تبدیلی کا نعرہ دے کر نا تجربہ کاری۔کی بھینٹ چڑھا دیا، پارٹی کی تنظیم اور تربیت کی بجائے نعروں ، جلسوں اور بھنگڑوں میں مصروف رکھا اور آخر میں ناکامی کا اعتراف کر لیا۔

جن کا وقت ضائع کیا اس کی بھر پائی ممکن نہیں، ابھی بھی نا کوئی واضح لائحہ عمل ہے اور نا جماعتی اسٹرکچر، پی ٹی آئی روایتی سیاسی لیڈروں پر مشتمل روایتی سیاسی پارٹی بن چکی ہے۔

3۔ پیپلز پارٹی کے پاس قومی مسائل کے حل کا کوئی۔منصوبہ نہیں ہے، پرانے گھسے پٹے نعروں، وراثتی سیاست، اور کرپشن میں پھنسی جماعت مکمل طور پر عوام کے مسائل حل کرنے سے قاصرہے، بلاول کی عمر کے علاوہ مزید کوئی نیا پن نہیں ہے۔

مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی اقتدار کے طویل تجربے کے باوجود موقع ملنے پر قومی ترقی میں کوئی واضح کردار ادا نہیں کر سکیں۔

لیڈروں کی لا محدود دولت کے تحفظ میں عام کارکن (مخلص) کو ہمیشہ کی طرح دھوکا دیا جا رہا ہے جبکہ پی ٹی آئی نے تو ناکامی اعتراف کر لیا ہے۔

4۔ میڈیا کا نان پروفیشنل (اکثریتی) سیٹھ طبقہ اور قومی سوچ سے عاری میڈیا مینیجرز اس نقصان میں برابر کے ذمہ دار ہیں۔

قومی شعور ، ترقی اور قومی مفادات کو انفرادی اور گروہی مفادات پر قربان کر دیا ، خبروں ، کرنٹ افیئرز پروگرام اور غیر صحت مند انٹرٹینمنٹ کے ذریعے قومی سوچ کی ترقی کو تنزلی میں تبدیل کر دیا۔

ایسے میں خاص طور پر نوجوان طبقہ کنفیوژن کا شکار ہے، کبھی روشن پاکستان ،کبھی تبدیلی، اور کبھی پاکستان کھپے کے نعروں کے پیچھے وقت ضائع کر رہا ہے۔

5۔ ایسے میں نوجوان طبقہ اور عام پاکستانی کہاں جائے، کس کے پیچھے چلے۔ کیونکہ نام نہاد مذہبی طبقات کا استحصالی طبقات کے ساتھ گٹھ جوڑ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔

کالج اور مدرسے کا نوجوان ایک دوسرے سے اجنبی بلکہ تقسیم ہو گیا ہے، جو کہ استحصالی حکمران طبقات کے لئے فائدہ مند ہے اس لئے سب سے پہلے تمام پاکستانیوں بالخصوص نوجوان طبقے کو انسانی بنیادوں پر ( رنگ نسل، مذہب اور فرقوں سے بالاتر) ایک دوسرے کا احترام، حالات کا شعوری بنیادوں پر تجزیہ، تاریخی شعور ، جدید تقاضوں کا فہم حاصل کریں ۔

ملک کو ظالم حکمرانوں سے نجات کے لۓ ذہنی اور عملی کوشش شروع کریں، اپنے ارد گرد اچھے لوگوں کو ساتھ ملائیں ، صرف نوجوان طبقہ کسی سے مرعوب ہوئے بغیر قومی تحریک کا آغاز کر سکتا ہے، اس کے لئے اسے مروجہ نظام سیاست سے آگے الگ راستہ خود بنانا ہو گا۔

بلاگر: پندرہ برسوں سے شعبہ صحافت سے وابستہ ملک عاصم ڈوگر ملکی معاملات پر تنقیدی نظر رکھتے ہیں۔

 

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *