ہائر ایجوکیشن کمیشن کا جامعات سے انتہا پسندی کے خلاف جنگ کا مطالبہ

ہائر ایجوکیشن کمیشن کا جامعات سے  انتہا پسندی کے خلاف جنگ  کا مطالبہ

اسلام آباد:  ہائر ایجوکیشن کمیشن(ایچ ای سی)نے پاکستان کی جامعات میں زیر تعلیم طلباء وطالبات سے انتہا پسندی سے مقابلہ کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے جبکہ جامعات میں سکیورٹی کے انتظامات بہتر بنانے پر بھی زور دیا ہے۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام کے مطابق اس حوالے سے ایچ ای سی نے تمام جامعات کے وائس چانسلرز،ریکٹرز اور یونیورسٹی ہیڈز کو خطوط ارسال کردیے ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے حوالے سے جامعات کے طلبہ کا ملوث ہونا تشویشناک اور اس بات کا ثبوت ہے کہ طلبا میں بے چینی،بنیاد پرستی اور انتہا پسندی بڑھ رہی ہے جو کہ بہت بدقسمتی کی بات ہے اس لئے جامعات کو اس کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

ایچ ای سی نے جامعات کے اندر اور باہر سکیورٹی کے خطرات کا جائزہ لینے پر زور دیا ہے۔

مئی 2017 میں منعقد ہونے والی وائس چانسلرز کی میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ طالب علموں کے ساتھ رابطے اور تعاون کو فروغ دیا جائے اور طلباء کے کسی بھی غیر معمولی رویے کا فورا نوٹس لیا جائے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ طالبعلموں کو ان کے مسائل سے آگاہ کرنے کیلئے حوصلہ افزائی کی جائے اور غیر نصابی سرگرمیاں جیسا کہ کھیلوں وغیرہ کا اہتمام کیا جائے تاکہ طلباء زیادہ سے زیادہ مصروف رہیں۔

ایچ ای سی نے پبلک لیکچرز کا اہتمام کرنے پر بھی زور دیا ہے۔

راولپنڈی میں وائس چانسلرز اور آئی ایس پی آر کے تعاون سے ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس میں جامعات میں زیر تعلیم طلباء میں انتہا پسندی اور بنیادہ پرستی کی جانب مائل ہونے کے خلاف پائیدار پروگرام شروع کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

ایچ ای سی چئیرمین کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ یونیورسٹیز کے ہیڈز جامعات میں انتہا پسندی کے فروغ کی روک تھام کیلئے ذاتی طور پر شمولیت اختیار کرکے اس ناسور کو پھیلنے سے روک سکتے ہیں۔

 

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *