برما: روہنگیا مسلمانوں کے علاقے میں 2 مزید دھماکے، فائرنگ

برما: روہنگیا مسلمانوں کے علاقے میں 2 مزید دھماکے، فائرنگ

راکھائن: بنگلہ دیشی سرحد کے قریب واقع میانمار (برما) کے علاقے میں دو دھماکے سنے گئے ہیں جس کے بعد فائرنگ کی آوازیں اور گاڑھا سیاہ دھواں دور تک دیکھا جا سکتا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پیر کے روز میانمار کے سرحدی گاؤں ٹانگ پیو لیٹ وے میں سنائی دیے دھماکے بنگلہ دیشی بارڈر فورسز کے مطابق بارودی سرنگ کے ہو سکتے ہیں۔

بنگلہ دیشی بارڈر گارڈز کی جانب سے بیان کی گئی وجہ کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

بنگلہ دیش کے سرحدی گارڈز کا کہنا ہے کہ میانمار کی سرحد کے پچاس میٹر اندر ہوئے دھماکوں میں ایک خاتون کی ٹانگ ضائع ہوئی ہے جسے علاج کیلئے بنگلہ دیش پہنچایا گیا ہے۔

پچیس اگست سے میانمار کی ریاست راکھائن میں ریاستی و غیر ریاستی دہشتگردی کے نتیجے میں اب تک 400 سے زائد مسلمان مارے جا چکے ہیں۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق برما کی فوج اور پولیس کی نگرانی میں حملہ کرنے والے انتہاپسند بدھ دہشتگردوں نے مسلمانوں کا ایک پورا گاؤں نظر آتش کیا۔ اس دوران معصوم بچوں کے سر کاٹ کر الگ کر دیے گئے۔

میانمار کی فوج کا دعوی ہے کہ اس نے پچیس اگست کو عسکریت پسند اراکانی مسلمانوں کے ایک پولیس پوسٹ پر حملے کے بعد کارروائی کی ہے۔

انسانی حقوق کے اداروں کا اپنی رپورٹس میں کہنا ہے کہ میانمار میں مسلم کش کارروائیوں میں بڑی تعداد میں بچوں، خواتین اور معمر افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 2012 سے نسل کشی کی سنگین کارروائیوں کا شکار روہنگیا مسلمان برما میں 11 لاکھ سے زائد تعداد میں رہتے ہیں۔ برما انہیں اپنا شہری ماننے سے انکار کرتے ہوئے بنگالی کہتا ہے اور ہر طرح کے حقوق سے محروم رکھتا ہے جس کے جواب میں ظلم سہنے والے غالب مسلم اکثریت میں سے کچھ لوگ بغاوت کرتے ہیں تو سبھی کو مزید انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی پر انسانی حقوق کی صریح پامالی کے باوجود خاموشی برقرار رکھنے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

ترکی، پاکستان سمیت انڈونیشیا اور بنگلہ دیش نے سفارتی سطح پر احتجاج کرتے ہوئے میانمار سے مطالبہ کیا ہے کہ مسلم نسل کشی کے اقدامات کو روکا جائے۔

پیر کو ہونے والے دھماکے کو اگرچہ بارودی سرنگ کے طور پر پیش کیا گیا ہے تاہم برطانوی خبررساں ادارے رائٹر کے رپورٹرز کا کہنا ہے کہ دھماکے سے قبل علاقے سے فائرنگ کی آوازیں آتی رہی تھیں۔

دوسری جانب پیر کو سامنے آنے والی اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب تک 90 ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان سرحد عبور کر کے بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں جب کہ 20 ہزار کے قریب اب بھی سرحدی علاقے میں موجود ہیں۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

One thought on “برما: روہنگیا مسلمانوں کے علاقے میں 2 مزید دھماکے، فائرنگ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *