بتیس سال کی عمر میں لوگ بن جاتے ہیں اپنے والدین کی نقل

بتیس سال کی عمر میں لوگ بن جاتے ہیں اپنے والدین کی نقل

لندن : آپ چاہے جتنے مرضی باغی یا خودمختار نوجوان ہو ںمگر درمیانی عمر میں ایک دور ایسا ہوتا ہے کہ آپ خود بخود اپنے والد یا والدہ کی طرح بن جاتے ہیں۔

ایسا کچھ دعویٰ ایک ویب سائٹ کے سروے میں سامنے آیا ہے جس کے مطابق 32 سال کی عمر وہ نقطہ آغاز ہوتی ہے جب لوگ اپنی جوانی کے باغیانہ خیالات کو پیچھے چھوڑ کر اپنے ماں یا باپ کی نقل بن جاتے ہیں۔

سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمر کی چوتھی دہائی میں لوگ کے زبانوں سے وہ جملے یا ہدایات نکلنا شروع ہوجاتی ہیں جو نوجوانی کے دور میں اپنے والدین کے منہ سے سننا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔

سروے میں ہر 7میں سے 6 افراد نے اعتراف کیا کہ وہ اپنی ماں یا باپ جیسے ہوچکے ہیں، اور ان میں سے بیشتر کی عمریں 32 سال تھی۔

70 فیصد نئے نئے ماں یا باپ بننے والے افراد نے اعتراف کیا کہ والدین بننا ان کی توقعات سے بھی زیادہ مشکل ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *