رزق میں کشادگی کا انمول وظیفہ

رزق میں کشادگی کا انمول وظیفہ

ایک شخص حضرت غوث علی شاہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے کشائش رزق کیلئے وظیفہ پوچھا. آپ نے فرمایا میاں اگر درود و وظائف پر روزی کا انحصار ہوتا تو دنیا میں مولویوں سے بڑھ کر کوئی دولت مند نہیں ہوتا۔

سچ پوچھو، تو وظیفہ اس معاملہ میں الٹا اثر کرتا ہے، کیونکہ دنیا ایک میل کچیل ہے اور اللہ کا نام صابن، بھلا صابن سے میل میں اضافہ کیونکر ہو سکتا ہے۔خدا کا نام تو صرف اس لئے ہے کہ اس کی برکت سے دنیا کی محبت دل سے دور ہو جائے نہ اسلئے کہ آدمی دنیا میں زیادہ آلودہ ہو۔

یہ باتیں سن کر اس شخص نے پھر اصرار کیا تو فرمایا ’’خیریاباسطاً بسط فی رزقی‘‘ پڑھا کرو لیکن مسجد سے باہر، خدا کے گھر میں دنیا طلبی کا کیا کام؟

حضرت خواجہ محمد عبدالرحمن چوہدریؒ کے پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ سے محبانہ تعلقات تھے، ایک دفعہ حضرت گولڑوی نے خواجہ صاحب کے فقر اور افلاس کو دیکھ کر فرمایا کہ آپ فلاں وظیفہ پڑھا کریں تو آپ کا لنگر خوب چل جائے گاور آپ کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہو گی۔

خواجہ صاحبؒ خاموش رہے اور کچھ جواب نہ دیا،جب حضرت گولڑویؒ نے دو تین مرتبہ اصرار کیا تو انہوں نے فرمایا۔ حضرت مجھے خدا سے شرم آتی ہے کہ باہر سے لوگ مجھے پیر سمجھ کر آئیں اور اندر پیر پیسوں کا وظیفہ پڑھتا ہو۔

حضرت پیر صاحب گولڑہ شریف نے جواب دیا “مرحبا، جیسا آپ کے بارے میں سنا تھا ویسا ہی پایا۔”

ایک مرتبہ ایک شخص نے حضرت مخدوم جہانیاںؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ میں حج پر جانا چاہتا ہوں، لیکن استطاعت نہیں ہے آپ بادشاہ کو لکھیں کہ وہ سرکاری خزانہ سے مجھے زادِ راہ عنایت فرمائے۔

آپ نے یہ سن کر محرروں سے فرمایا کہ بادشاہ کو لکھ دو کہ اس شخص کو زادِ راہ عنایت کیا جائے۔ لیکن میں نے فقہ میں دیکھا ہے کہ جو شخص بادشاہوں سے خرچ لے کر حج کو جاتا ہے اس کا حج قبول نہیں ہوتا۔

 

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *