تحریک انصاف کے مریم نواز، الیکشن کمیشن پر سنگین اعتراضات

تحریک انصاف کے مریم نواز، الیکشن کمیشن پر سنگین اعتراضات

لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی نے جمعرات کو لاہور میں مریم نواز کی انتخابی مہم اور الیکشن کمیشن کے رویے پر سنگین اعتراضات اٹھائے ہیں۔

پاکستان ٹرائب کے نمائندہ کے مطابق لاہور میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف رہنمائوں نے 6 سے زائد اعتراضات اٹھائے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وہ پی ٹی آئی کارکنوں کے اس مطالبے کی مکمل تائید کرتے ہیں کہ قوم کی جان روایتی سیاستدانوں سے چھڑائی جائے اس مقصد کیلئے تبدیلی لانے کے لئے میدان عمل میں آئیں۔

تحریک انصاف کی امیدوار قومی اسمبلی ڈاکٹر یاسمین راشد اور پی ٹی آئی رہنما چوہدری سرور کی موجود میں کی گئی نیوزکانفرنس میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ نکات تحریری طور پر الیکشن کمیشن کو پیش کئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اعتراضات کو سنجیدہ نہیں لیا جا رہا ہے اس لئے عید کے بعد دوبارہ انتخابی کمیشن سے رجوع کریں گے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مریم نواز انتخابی مہم چلائیں لیکن کسی جگہ کے دورے کے موقع پر پوری یونین کونسل کو سیل کر دینا اور وی وی آئی پی پروٹوکول دینا کہاں کا انصاف ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ضابطہ کے تحت لگائے گئے بینرز اور اسٹیمرز کو راتوں رات اتار دیا جاتا ہے لیکن مخالفین کے خلاف ضابطہ پینا فلیکسز کو بھی چھیڑا نہیں جاتا۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ این اے 120 کی یونین کونسل 50 اور 51 میں بڑی تعداد میں پشتون ووٹر مقیم ہے جو تحریک انصاف کے حامی تھے اور مانے جاتے ہیں ان یونین کونسلز میں موجود ووٹرز کے شناختی کارڈز بلاک کر دیے گئے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ این اے 120 میں نادرا تسلیم کر چکا ہے کہ 28 ہزار سے زائد ووٹرز کی تصدیق نہیں کی جا سکتی تاہم ان کا اسٹیٹس کنفرم نہیں کیا گیا ہمارا مطالبہ ہے کہ ان ووٹوں کو کینسل کیا جائے۔

پی ٹی آئی وائس چئیرمین کا کہنا تھا کہ میں اپنی پسندیدہ امیدوار کے لئے مہم کرنا چاہتا ہوں لیکن میرے اوپر ضابطہ اخلاق کے تحت پابندی لگا دی گئی، اجازت کے لئے الیکشن کمشنر آف پاکستان اور پنجاب کے نمائندہ الیکشن کمیشن سے رجوع کیا، بلوچستان کے نمائندہ الیکشن کمیشن سے ملا لیکن میری درخواست رد کر دی گئی۔ تحریک انصاف کی ساری قیادت پر پابندی لگا دی۔ دوسری جانب وزرا اور تمام منتخب نمائندے انتخابی مہم چلا رہے ہیں اور اس پر کوئی قدغن نہیں۔

ایک روز قبل وزیرخوراک پنجاب بلال یسین نے مریم نواز کے ساتھ انتخابی ریلی میں شرکت کی ہے۔ ایسی صورت میں ضابطہ اخلاق کی پابندی کی شرط کیا صرف تحریک انصاف پر عائد ہوتی ہے؟ اس پر کون عمل کروائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کے موقع پر فوج بلائے جانے کا انتخابی کمیشن کا مطالبہ قابل تحسین ہے لیکن ان شکایتوں کا ازالہ کون کروائے گا۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *