بینظیر بھٹو قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا

بینظیر بھٹو قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا

راولپنڈی: تقریبا ایک دہائی تک جاری رہنے والے مقدمہ کے بعد انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے بینظیر بھٹو قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے 5 ملزمان کو باعزت بری کر کے دو پولیس افسران کو سزائیں سنائی ہیں۔

پاکستان ٹرائب کے نمائندہ کے مطابق احتساب عدالت کے جج نے اہم مقدمے کا فیصلہ جمعرات کو اڈیالہ جیل میں سنایا۔

فیصلے کے دوران سابق آمر پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کو ضبط کرنے کا حکم دیا گیا جب کہ سابق سی پی او سعود عزیز اور ایس پی خرم شہزاد کو دو الگ الگ مقدمات میں سترہ، سترہ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ضمانت پر موجود سابق و موجود پولیس افسران کو سزا سنائے جانے کے بعد احاطہ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دونوں ملزمان کو پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی سنایا گیا ہے۔

بینظیر قتل کیس کے مقدمے میں 317 پیشیاں ہوئیں اس دوران 3 بار سابق آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔

بینظیر بھٹو قتل کیس کا فیصلہ کل بدھ کو خصوصی عدالت کے جج محمد اشرف نے محفوظ کیا تھا۔

نمائندہ پاکستان ٹرائب کے مطابق خصوصی عدالت نے فیصلہ سناتے وقت موقع پر موجود مرکزی ملزمان قرار دیے گئے رفاقت حسنین، حسنین گل، شیر زمان، اعتزاز شاہ اور رشید ترانی کو باعزت بری کرنے کا حکم دیا ہے۔

9 سال 8 ماہ 3 دن تک جاری رہنے والے مقدمہ میں 15 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا۔ 300 سے زائد سماعتیں منعقد کی گئیں جب کہ ایک سو 39 گواہوں میں سے تقریبا 60 کے بیانات قلمبند کئے گئے۔

بے نظیر قتل کیس فیصلہ محفوظ ہونے سے قبل کیا ہوا؟

ستائیس دسمبر 2007 کو سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں انتخابی جلسے سے خطاب کر کے واپس جاتے ہوئے قتل کر دیا گیا تھا۔

قتل کا مقدمہ اس وقت کے ایس ایچ او کاشف ریاض کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

بے نظیر بھٹو کے قتل کی تفتیش کے عمل میں مقامی پولیس کے علاوہ، ایف آئی اے، برطانوی پولیس اور اقوام متحدہ کے ماہرین نے حصہ لیا۔

تفتیشی عمل کے بعد انویسٹی گیشن ایجنسیز نے 16 ملزمان کو نامزد کیا تھا جن میں سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے 8 ملزمان مختلف کارروائیوں میں مارے جا چکے ہیں۔

سابق آمر پرویز مشرف، سابق سی پی او سعود عزیز، سابق ایس پی خرم شہزاد، شیر زمان، حسین گل، اعتزاز شاہ، رفاقت حسین اور عبدالرشید دیگر ملزمان تھے۔

اس مقدمہ میں کمر درد کا بہانہ کر کے بیرون ملک فرار ہو جانے والے سابق آمر پرویز مشرف کو مفرور اشتہاری قرار دیا گیا تھا جب کہ سعود عزیز اور خرم شہزاد ضمانت پر تھے۔

بےنظیر بھٹو قتل کیس کا فیصلہ محفوظ کرنے سے قبل مقدمہ کی 300 سماعتیں منعقد کی گئیں جب کہ سات مختلف ججز نے اس مقدمہ کو سنا۔

عدالتی کارروائی کے دوران 8 چالان پیش کئے گئے۔ 139 گواہوں کو پیش کیا گیا جب کہ 68 ملزمان کے بیانات پر جرح کی گئی۔

قتل کیس کے ایک پراسیکیوٹر کو بھی تقریبا ایک دہائی پر مشتمل طویل سماعتوں کے دوران قتل کیا گیا۔

لیاقت باغ راولپنڈی میں بینظیر بھٹو کی آخری تقریر

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *