محبت سے محرومی پر پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل میں طالبعلم کی موت

محبت سے محرومی پر پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل میں طالبعلم کی موت

لاہور: پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس کے ہاسٹل سے مبینہ طور پر محبت سے محرومی کا شکار ہونے والے طالبعلم نے اپنے ہاتھوں زندگی کا چراغ گل کر دیا۔

پاکستان ٹرائب کو پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ اور انتظامی ذرائع سے موصول اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی کے اولڈ کیپس میں واقع خالد بن ولید ہاسٹل کے ایک کمرے سے طالبعلم کی نعش دستیاب ہوئی ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبعلم کی نعش کئی روز پرانی نظر آتی ہے۔

مذکورہ ہاسٹل میں مقیم طلبہ کی جانب سے انتظامیہ کو شکایت کی گئی کہ وہاں کے کمرہ نمبر 168 سے عجیب ناگوار بدبو کی لپٹیں اٹھ رہی ہیں۔

طلبہ کی شکایت پر کمرے کو کھولا گیا تو وہاں طالبعلم کی نعش موجود تھی جس کی شناخت ایم اے اردو سال دوم کے طالبعلم منظور جمشید کمبوہ کے نام سے کی گئی ہے۔

پاکپتن سے تعلق رکھنے والے منظور کی نعش جس کمرے سے دستیاب ہوئی وہ اس کے نام پر نہیں بلکہ یونیورسٹی کے ایک اور طالبعلم شاہد کے نام پر الاٹ کیا گیا ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق ہاسٹل میں مقیم بیشتر طلبہ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد سیمسٹر شروع نہ ہونے کی وجہ سے تاحال گھروں پر ہیں۔

یونیورسٹی ذرائع سے منسوب اطلاعات میں دعوی کیا گیا ہے کہ بدبو کی شکایت پر کمرہ کھولا گیا تو علم ہوا کہ منظور نے خود اپنی زندگی کا خاتمہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق منظور کا یہ اقدام مبینہ طور پر ساتھی طالبہ کی محبت یا توجہ پانے میں ناکامی کا شاخسانہ ہے۔

پولیس نے نعش کو تحویل میں لے کر مزید کارروائی کے لئے مردہ خانے منتقل کر دیا ہے جب کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے مرنے والے طالبعلم کے اہلخانہ سے رابطہ کیا گیا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق منظور کی نعش بدھ کی صبح 10 بجے اس وقت دستیاب ہوئی جب وہاں تعینات گارڈز نے کچھ طلبا کی موجودگی میں بند کمرے کو کھولا۔

اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی کا طالبعلم منظور اپنی بہن کے ہمراہ جامعہ میں زیر تعلیم تھا۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *