کراچی میں بارش سے تباہی کے بعد مساجد سے مدد کیلئے اعلانات

کراچی میں بارش سے تباہی کے بعد مساجد سے مدد کیلئے اعلانات

کراچی: پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پہلے سے متوقع بارش کے بعد ہونے والی تباہی اس سطح پر جا پہنچی کہ مساجد سے مدد کے لئے اعلانات کئے جا رہے ہیں۔

پاکستان ٹرائب کے نمائندہ کے مطابق امدادی اداروں و طبی مراکز سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک ہونے والی بارش کے نتیجے 3 بچوں سمیت 10 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق انسانی جانوں کے زیاں کے یہ واقعات بارش کے باعث چھتیں گرنے اور کرنٹ لگنے کے نتیجے میں پیش آئے ہیں جب کہ شہر قائد میں متعدد مقامات پر پانی کھڑا ہونے سے معمولات زندگی درہم برہم ہو چکے ہیں۔

کراچی میں خراب موسم کے باعث دیگر شہروں یا بین الاقوامی روٹس کے لئے شیڈول متعدد پروازیں بھی منسوخ ہوگئی ہیں اور اسکولوں کی چھٹی کا اعلان کردیا گیا ہے۔

بجلی فراہمی کے ذمہ دار نجی ادارے کے الیکٹرک اور شہری انتظامات کے ذمہ دار ادارے بلدیہ عظمی کی جانب سے ناخوشگوار صورت حال سے نمٹنے کے لیے دعووں کے برعکس مناسب اقدامات نہیں کیے جاسکے۔

کراچی کے علاقوں کیماڑی، لیاری ، نارتھ کراچی اور بلدیہ ٹاون میں 3 کمسن بچوں سمیت 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔ بلدیہ ٹاؤن میں محمد عظیم ، لیاری میں جاوید احمد ، اورنگی ٹاؤن میں نصیر اور پرانی سبزی منڈی میں یسین نامی شخص جاں بحق ہوئے۔

چیف میٹرولوجسٹ عبدالرشید کے مطابق سب سے زیادہ بارش نارتھ کراچی میں ریکارڈ کی گئی ہے جو 97 ملی میٹر رہی ہے۔

شدید بارشوں کے باعث ٹرینوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوگئی ہے۔ کینٹ اسٹیشن پر پانی جمع ہوگیا جبکہ ٹرینوں کی روانگی میں تاخیر سے مسافروں کو پریشانی کا سامنا ہے۔

بارش میں کے الیکٹرک کے 79 فیڈرز ٹرپ کر گئے ہیں جبکہ پی ایم ٹیز و کیبل خراب ہونے اور تاریں ٹوٹنے سے متعدد علاقوں کی بجلی بند ہوگئی ہے۔

ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق شہر میں آج ٹریفک بھی معمول سے بہت کم ہے ۔ اورنگی نالے کے اطراف انتہائی خراب صورتحال کا سامنا ہے جہاں 4 سے 5 فٹ پانی جمع ہوگیا ہے جس کے باعث علاقہ مکین گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق متعدد گنجان آبادیوں میں کے الیکٹرک اور بلدیہ عظمی سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے فلاپ ہو جانے کے بعد باہم مدد کے لئے مساجد سے اعلانات کر کے مکینوں کو خبردار کیا جاتا رہا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *