پمز میں کروڑوں روپے کرپشن کے ذریعے ٹھکانے لگائے جانے کا انکشاف

پمز میں کروڑوں روپے کرپشن کے ذریعے ٹھکانے لگائے جانے کا انکشاف

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم سب سے بڑے طبی مرکز پمز میں کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کے لئے ڈاکٹرز نے وفاقی وزیر کیڈ کو خط لکھا ہے۔

پاکستان ٹرائب اردو کو دستیاب خط کے مطابق ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے وزیر کیڈ اور سیکرٹری کیڈ کو لکھے گئے خط میں کروڑوں روپے کی کرپشن پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

دو روز قبل لکھے گئے خط میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں کی جانے والی بدعنوانیوں میں سے چند کا ذکر کرتے ہوئے افسوس ظاہر کیا گیا ہے کہ نیب اور دیگر متعلقہ اداروں نے معاملات پر چپ سادھ رکھی ہے۔

نمائندہ پاکستان ٹرائب کے مطابق ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) کی جانب سے تحریر کئے گئے خط میں حوالہ دیا گیا ہے کہ 2005 کے زلزلے کے موقع پر عطیہ کردہ بستر بھی غبن کئے گئے تھے۔

عطیہ کردہ بستروں کے متعلق لکھا گیا ہے کہ انہیں اکاونٹس والے ندیم نامی اسٹور کیپر کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعے غبن کر گئے۔

دریں اثنا جون کے مہینے میں نجی میڈیکل اسٹور کشمیر فارمیسی اور پمز کے ایک اکاونٹنٹ کی ملی بھگت سے سوا کروڑ روپے کے بوگس بل منظور کروانے کا انکشاف بھی کیا گیا ہے۔

وائی ڈی اے کے خط میں یہ حوالہ بھی دیا گیا ہے کہ ایسی ہی بدعنوانی کے ذریعے پمز کے ایک کیشئیر نے اسلام آباد میں 6 کروڑ روپے کا گھر تعمیر کروایا ہے۔ مقصود نامی کیشئیر کے متعلق مزید کہا گیا ہے کہ اسپتال سے تبادلہ ہونے پر مذکورہ فرد نے ولایت نامی ملازم کو تین لاکھ روپے دیے اور اپنا تبادلہ رکوا دیا۔

مریضوں اور طبی عملے کے لئے پمز کے چھتوں پر نصب کردہ پانی کے ٹینکوں کا ذکر کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک کروڑ روپے کی لاگت سے نصب کردہ ٹینکیاں ایک روز بھی نہ چل سکیں۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے تحریر کردہ خط میں ایک اور تشویشانک مسئلہ کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ پمز میں ان بدعنوانیوں کی وجہ یہ ہے کہ غبن کردہ رقم کو باقاعدہ آپس میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

پمز میں علاج معالجہ کیلئے صرف اسلام آباد کے مکین ہی نہیں بلکہ جڑواں شہر راولپنڈی سمیت ملحقہ اضلاع اور آزاد کشمیر و خیبرپختونخوا سے بھی علاج کیلئے بیماروں کا لایا جاتا ہے۔

وفاقی دارالحکومت کا سب سے بڑا طبی مرکز ہونے کے باوجود پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز بدانتظامیوں یا عدم ترجیحات کے نتیجے میں ایک پریشاں حال اور بوسیدہ سے لاوارث ادارے کا تاثر پیش کررہا ہوتا ہے۔

نمائندہ پاکستان ٹرائب کے مطابق پمز میں عدم ترجیحات اور بدانتظامی کا اندازہ لگانے کے لئے طبی مرکز کے مردہ خانے کو بطور مثال پرکھا جا سکتا ہے جہاں نعشوں کو محفوظ رکھنے کے لئے نصب کردہ چلرز خراب پڑے ہیں جب کہ واضح نظر آتا ہے کہ کوئی اس کی دیکھ بھال پر توجہ نہیں دیتا۔

پمز کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ کولڈ اسٹور خراب ہونے اور جگہ نہ ہونے کی وجہ سے نعشوں کو پولی کلینک اسپتال یا روات کے مردہ خانے میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔

Shahid Abbasi

Shahid Abbasi is a Founder and Editor of Pakistan's fastest growing indepednent and bilingual news website, pakistantribe.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *