نوجوانوں کو خودکشی پر اکسانے والی گیم

نوجوانوں کو خودکشی پر اکسانے والی گیم

ماسکو: خود کشی پر اکسانے والی گیم بلیو وہیل کا آغاز روس میں 2013 میں روس میں ہوا،اس گیم کو فلپ بوڈکن نے تخلیق کیاہے۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام ٹیکنالوجی ڈیسک کے مطابق اس گیم کا تصور ساحل پر آنے والی وہیل سے لیا گیا ہے ساحل پر پھنسے والی کچھ وہیل خودکشی کرنے کے لیے ساحل کا رخ کرتی ہےجبکہ اس گیم میں بھی آخر میں پلیئر کو خود کشی کرنے کا کہا جاتا ہے۔

اس گیم کا بانی ایک رشین طالبعلم فلپ ہے جسے نوجوانوں کو خودکشی پر اکسانے کا مجرم مانا گیا ہے، فلپ کو روس میں حراست میں لے لیا گیا۔

اس گیم میں پلیئر کو 50 دن میں 50 ٹاسک پورے کرنے ہوتے ہیں،پلیئر کو ان ٹاسک کے پورے کرنے کا دستاویزی اور تصویری ثبوت بھی فراہم کرنا ہوتا ہے۔

ٹاسکس

آدھی رات کو ڈراونی فلم دیکھنا یا آدھی رات کو اٹھنا

خود کو نقصان پہنچانا

منشیات کی زیادہ مقدار لینا

کسی اونچی بلڈنگ پر چڑھ کر بالکل کنارے پر کھڑا ہونا

اپنے بازو پر چاقو سے نشان بنانا۔

بازو پر بلیو وہیل کی شکل بنانا

اپنے ہونٹ کاٹنا

سوئی کے ساتھ اپنا بازو یا ہاتھ چھیدنا

سیکرٹ ٹاسک

اپنے بازو پر پیغام کندہ کرنا

اپنے آپ کو نقصان پہنچانا یا بیمار کرنا

پل پر کھڑے ہونا

کرین پر چڑھنا

(اس مرحلے پر حصہ لینے والے کا قابل اعتبار ہونا چیک کیا جاتا ہے)

چھت کے کنارے پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھ جانا

وہیل سے ملنا

اسکائپ پر وہیل سے بات کرنا

سیکرٹ مشن

ریل کی پٹری پر چلنا

سارا دن کسی سے بات نہ کرناوہیل کے حوالے سے ایک حلف اٹھائیں

ان تمام مراحل میں پلیئر اپنی ذاتی شناختی اور ذاتی معلومات بھی گیم کے ایڈمنز کو فراہم کرتا رہتا ہے، ان معلومات کو بعد میں پلیئر کو بلیک میل کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

گیم کا ہر ٹاسک مکمل کرنے پر پلیئر کو کہا جاتا ہے کہ اپنے بازو پر چاقو سے نشان بنائے، جیسے جیسے ٹاسک مکمل ہوتےہیں بازو پر بلیو وہیل کی شکل بنتی جاتی ہے۔

گیم کے 50ویں دن 50 ویں ٹاسک میں پلیئر کو خود کشی کرنے کا کہا جاتا ہے، جس سے انکار پر اس کی ذاتی معلومات شائع کرنے کی دھمکی بھی دی جاتی ہے، اسی وجہ سے گیم شروع کرنے والے کے لیے ایک بار گیم شروع کر کے واپس آنا مشکل ہوتا ہے۔

اس گیم کے آتے گزشتہ چند ماہ کے دوران اسے پسند کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ماہرین اور پولیس  سب کو اپنے بچوں پر نظر رکھنے کا مشورہ دے رہی ہے۔

 

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *