تین دنوں میں 80 لاکھ کمانے والا پاکستانی بیوروکریٹ

تین دنوں میں 80 لاکھ کمانے والا پاکستانی بیوروکریٹ

اسلام آباد: وزارت داخلہ کے سابق سیکرٹری اور سینئر بیوروکریٹ شاہد خان اسلام آباد میں ایک پلاٹ کا سودا کر کے محض تین روز میں 80 لاکھ روپے کمانے کے معاملے پر مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام کو دستیاب تفصیلات کے مطابق سابق سیکرٹری داخلہ پر الزام ہے انہوں نے نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کو پلاٹ کی ادائیگی کے بعد صرف تین دنوں میں لاکھوں روپے بنا لئے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے پارلیمان میں جمع کروائی گئی آڈٹ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے معاملے کی تحقیق کی سفارش کی گئی ہے۔

5 دسمبر 2014 میں کیا گیا سودا اس وقت انجام پایا جب شاہد خان فاؤنڈیشن کمیٹی آف ایڈمنسٹریشن کے چئیرمین تھے، تین روز بعد 8 دسمبر کو انہوں نے 20 لاکھ روپے میں خریدا گیا یہی پلاٹ ایک کروڑ روپے میں فروخت کر دیا۔

پولیس فاؤنڈیشن کے ای الیون سیکٹر میں تجارتی علاقے میں واقع دو سو مربع گز کا پلیٹ شاہد خان کو مارکیٹ کی قیمت سے کہیں کم پر فروخت کیا گیا تھا۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے جمع کروائی گئی آڈٹ رپورٹ میں نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کو انتہائی کم قیمت پر پلاٹ الاٹ کرنے کے غیرمعمولی اقدام پر ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق الاٹمنٹ کے وقت مارکیٹ کی مروج قیمت کے تحت پلاٹ کی قیمت کا تعین نہیں کیا گیا۔ تین دنوں کے اندر پلاٹ کی قیمت خرید کے مقابلے میں اس کی قیمت پانچ گنا بڑھ جانا واضح کرتا ہے کہ نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کے قیمتوں کے تعین کے نظام میں خرابی موجود ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق پلاٹ کی الاٹمنٹ ایک فرد کو فائدہ پہنچانے کے لئے کی گئی تھی۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ پلاٹ کی مارکیٹ قیمت واپس لئے جانے کے ساتھ کم قیمت پر فروخت کے ذمہ داران کا تعین کیا جانا چاہئے۔

شاہد خان نے پلاٹ کی ڈیل کے متعلق بات کرتے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا اور معاملہ عدالت میں ہی واضح ہو گا۔

ای الیون میں کمرشل پلاٹ کی الاٹمنٹ اور تین دنوں میں فروخت کے ذریعے 80 لاکھ روپے کمانے کا معاملہ سودے کے دو سال بعد دسمبر 2016 میں پبلک اکاؤنٹنگ آفیسر کے سامنے پیش کیا گیا جس پر آڈٹ مکمل ہونے کے بعد محکمہ جاتی اکاؤنٹس کمیٹی بنائی گئی تھی۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *