فیس بک جعلی خبریں پھیلانے والے پیجز کے لئے ایڈورٹائزمنٹ ختم کر رہا ہے

فیس بک جعلی خبریں پھیلانے والے پیجز کے لئے ایڈورٹائزمنٹ ختم کر رہا ہے

سماجی رابطوں کی دنیا کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ جعلی خبریں پھیلانے والے پیجز کے لئے ایڈورٹائزمنٹ کی سہولت ختم کر رہا ہے۔

پیر کو سامنے آنے والے اقدام میں کہا گیا ہے کہ فیس بک ایسے بزنس پیجز کے لئے ایڈورٹائزنگ کی سہولت ختم کر رہا ہے جو جعلی خبریں پھیلاتے ہیں۔

اپنی بلاگ پوسٹ میں فیس بک کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس کے دوران ہم نے جعلی خبریں اور افواہیں پھیلانے والے پیجز کے خلاف متعدد اقدامات کئے ہیں۔ اس وقت ہم ایڈورٹائزرز کو یہ اجازت نہیں ڈے رہے کہ وہ تھرڈ پارٹی فیکٹ چیکنگ اداروں کی جانب سے غلط قرار دی گئی اسٹوریز کو اپنے اشتہارات کا حصہ بنائیں۔

یاہو فنانس سے گفتگو کرتے ہوئے فیس بک کے پراڈکٹ ڈائریکٹر راب لیتھرن کا کہنا تھا کہ اب ہم اضافی کام کر رہے ہیں جس کے بعد غلط قرار دی جانے والی اسٹوریز کو اپنے اشتہارات کا حصہ بنانے والوں پر پابندی عائد کر دی جائے گی کہ وہ فیس پر تشہیر نہیں کر سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم پیجز کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ خبریں شئیر کر کے لوگوں کو جمع کریں اور فیس بک پر بدنظمی پیدا کریں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اسے ان چیزوں میں شامل کر لیا ہے جن سے لوگوں کو آگاہ کیا جانا ضروری ہے۔

فیس بک کی جانب سے یہ بات واضح نہیں کی گئی ہے کہ کسی پیج کو کتنی غلط اسٹوریز شئیر کرنے کے بعد ایڈورٹائزمنٹ کی سہولت سے محروم کیا جائے گا۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ آیا ایڈورٹائز کرنے کی پابندی مستقل ہو گی یا کچھ مدت کے لئے۔

باب لیتھرن کا کہنا تھا کہ ہم یہ بات بتا کر پیجز کو اس کا موقع نہیں دیں گے کہ وہ سسٹم سے کھیلیں۔

یاد رہے کہ اگست میں فیس بک نے اعلان کیا تھا کہ وہ مشین لرننگ کے عمل کے ذریعے افواہوں کا تعین کرکے اسے حقائق پرکھنے والے اداروں کو بھیجے گا۔ اس کے بعد حقائق پرکھے جانے کے نتائج کو اوریجنل آرٹیکل کے ساتھ شائع کیا جائے گا۔

فیس بک پر مسلسل اس حوالے سے تنقید کی جاتی رہی ہے کہ وہ جعلی خبریں پھیلانے کا بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے سوشل سائٹ نے جو اقدامات کئے ہیں ان کے بعد مختلف اداروں و شخصیات کی نمائندگی کرنے والے مستند پیجز کو بھی پوسٹ ریچ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ٹیکنالوجی سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ فیس بک اپنے اقدامات کے ذریعے آمدن تو بڑھانا چاہتا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ فیس بک پر درست اور مستند مواد فراہم کرنے والوں کے لئے بھی مشکلات پیدا کر رہا ہے جو ان اداروں کو مجبور کر چکے ہیں کہ وہ فیس بک پر مزید انحصار نہ کریں۔

پاکستان میں مستند و دلچسپ مواد فراہم کرنے والی نیوز ویب سائٹ پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام کے ایڈیٹر شاہد عباسی نے نمائندے کو بتایا کہ فیس بک اپنی آمدن میں اضافہ چاہتا ہے جو غلط نہیں تاہم ایسا کرتے ہوئے وہ ترجیحات کے مسئلے پر کنفیوز ہے۔ نئی ٹیکنالوجیز کا فائن ٹیون نہ ہوسکنا بھی فیس بک کے پالیسی سازوں کے خیالات کو عملی شکل دینے میں رکاوٹ بن رہا ہے۔

رفاہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیا سائنسز کے لیکچرر راشد فاروق کا کہنا تھا کہ فیس بک کے حالیہ اقدامات اتنے سادہ نہیں جتنے بیان کئے جاتے ہیں۔ موجودہ دور میں کنٹینٹ پر کنٹرول کے لئے کئے جانے والے اقدامات اور فیس بک کے اعلانات کو الگ الگ دیکھنا ضروری نہیں رہا ہے۔

فرانس میں گزشتہ انتخابات سے قبل بڑا موضوع بن جانے والے جعلی خبروں کے معاملے پر جرمنی نے بھی اعلان کیا تھا کہ اگر جعلی خبروں کو فورا نہیں ہٹایا گیا تو سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

Shahid Abbasi

Shahid Abbasi is a Founder and Editor of Pakistan's fastest growing indepednent and bilingual news website, pakistantribe.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *