پاکستان کی کل آبادی 20 کروڑ 78 لاکھ ہو گئی

پاکستان کی کل آبادی 20 کروڑ 78 لاکھ ہو گئی

اسلام آباد: چھٹی خانہ و مردم شماری کے عبوری نتائج کے مطابق پاکستان کی کل آبادی بڑھ کر 20 کروڑ 78 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے۔

پاکستان ٹرائب کو محکمہ شماریات سے دستیاب اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی کل آبادی میں گزشتہ 19 برسوں کے دوران ساڑھے سات کروڑ سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔

مذکورہ اعدادوشمار جمعہ کو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں بھی پیش کئے گئے ہیں۔

گزشتہ مردم شماری (1998) کے مطابق پاکستان کی آبادی تیرہ کروڑ تھی۔ پاکستان کی کل آبادی کی موجودہ تعداد کے مطابق آبادی میں سالانہ 2.4 فیصد کے حساب سے اضافہ ہوا ہے۔

یاد رہے کہ چھٹی مردم شماری کے لئے حکومت نے ایک لاکھ 18 ہزار افراد کو تعینات کیا تھا جن کے ساتھ تقریبا اتنی ہی تعداد میں سیکیورٹی اہلکاروں نے بھی 70 روزہ مہم کے دوران خدمات سرانجام دیں۔

مارچ میں ہونے والی چھٹی خانہ و مردم شماری طویل عرصہ سے تعطل کا شکار تھی جسے سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل کیا گیا۔ آبادی کے متعلق پیش کردہ عبوری نتائج میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی آبادی کے اعدادوشمار شامل نہیں کئے گئے ہیں۔

حالیہ نتائج کے مطابق پاکستان کی کل آبادی میں تناسب کے اعتبار سے اسلام آباد، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ ہپنجاب میں کمی ہوئی ہے جب کہ سندھ کے مکینوں کا تناسب کل آبادی میں تبدیل ہوئے بغیر 23 فیصد ہی رہا ہے۔

پاکستان کی کل آبادی میں اضافے کے کیا اثرات ہوں گے؟
آبادی کے تناسب میں اضافے اور کمی کا اثر ناصرف قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں نشستوں کی تعداد پر پڑے گا بلکہ ملکی وسائل میں ان کے حصے بھی متاثر ہوں گے۔

نمائندہ پاکستان ٹرائب کے مطابق ملکی قوانین کے تحت آبادی میں اضافے کے نتیجے میں سرکاری ملازمتوں کے صوبائی کوٹہ میں بھی فرق پیدا ہو گا۔

یاد رہے کہ ملکی وسائل کے قابل تقسیم محاصل یعنی 82 فیصد حصے کو آبادی کے تناسب کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا ہے۔

پاکستان کی کل آبادی میں شہری اور دیہی کا فرق
عببوری نتائج کے مطابق ملکی آبادی کا 63.6 فیصد یعنی (132.189 ملین) تقریبا تیرہ کروڑ بیس لاکھ سے زائد دیہی علاقوں میں رہائش پزیر ہے۔ یہ تناسب 1998 میں کی گئی پانچویں مردم شماری کے مطابق 65.6 فیصد تھا۔

تازہ اعدادوشمار کے مطابق ملکی آبادی کا 36.4 فیصد یعنی (75.58 ملین) ساڑھے سات کروڑ سے زائد شہری علاقوں میں مقیم ہے، یہ گزشتہ مردم شماری میں کل آبادی کا 32.52 فیصد تھا۔

ملک کا جنوبی صوبہ سندھ سب سے زیادہ شہری آبادی رکھتا ہے جہاں صوبے کے کل مکینوں کا 52.02 فیصد شہری علاقوں میں رہتا ہے۔ اس میں سے بھی 68 فیصد صرف تین شہروں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں مقیم ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ سندھ میں تمام تر دعووں کے باوجود طویل عرصے سے برقرار شہری و دیہی کوٹہ اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اہم فرق سامنے آئے گا۔

پنجاب شہری آبادی کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر رہا ہے جہاں 36.71 فیصد آبادی شہری علاقوں میں رہائش پزیر ہے۔ سب سے کم شہری آبادی خیبرپختونخوا کے شہری علاقوں میں رہائش پزیر ہے۔

پاکستان کی کل آبادی میں خواتین کی تعداد
2017 میں کی گئی چھٹی خانہ و مردم شماری نتائج کے مطابق گزشتہ 19 برسوں کے دوران ملکی آبادی میں خواتین کا تناسب ایک فیصد بڑھا ہے۔

حالیہ خانہ و مردم شماری نتائج کے مطابق کل آبادی میں خواتین کا تناسب بڑھ کر 48.8 فیصد یعنی (1.1.314 ملین) 10 کروڑ 10 لاکھ سے زائد ہو گیا ہے۔

گزشتہ یعنی 1998 میں ہونے والی پانچویں مردم شماری کے مطابق خواتین کل ملکی آبادی کا 47.9 فیصد تھیں۔

پاکستان کی کل آبادی میں مردوں کی تعداد
پاکستان کی کل آبادی میں مردوں کا تناسب بڑھ کر 1.6.449 ملین یعنی 10 کروڑ 60 لاکھ سے زائد رہا ہے جو کل آبادی کا 51.2 فیصد بنتا ہے۔ مخنث، خواجہ سرا یا ہیجڑے کہلانے والوں کی تعداد پاکستان کی کل آبادی کا 0.05 فیصد یعنی 10 ہزار 418 رہی ہے۔

پاکستان کی کل آبادی میں اضافے کے بعد کیا ہو گا؟
مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں اعدادوشمار پیش کئے جانے کے بعد بے پایا ہے کہ انہیں مزید گفت و شنید کے لئے بین الصوبائی روابط کمیٹی (آئی پی سی سی) میں پیش کیا جائے گا جہاں مستقبل کے متعلق حکمت عملی وضع کی جائے گی۔

آئی پی سی سی میں اعدادوشمار پر بات مکمل ہونے کے بعد انہیں منظوری کے لئے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ مردم شماری کے مکمل نتائج آئندہ برس تک سامنے لائے جائیں گے۔

مشترکہ مفادات کونسل میں اس بات کا جائزہ بھی لیا گیا کہ آئندہ عام انتخابات گزشتہ مردم شماری کی بنیاد پر کئے گئے انتظامات کے تحت ہی کئے جائیں کیونکہ قوانین مردم شماری کے عبوری نتائج کی بنیاد پر نئی حلقہ بندیوں کی اجازت نہیں دیتا۔

انتخابی کمیشن نئی مردم شماری نتائج پر کیا کہتا ہے؟
مشترکہ مفادات کونسل کو بتایا گیا کہ اگررواں برس اکتوبر تک چھٹی خانہ و مردم شماری کے نتائج مکمل کر لئے جائیں تو الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) آبادی کے نئے اعدادوشمار کی بنیاد پر آئندہ عام انتخابات کروانے کو رضامند ہے۔

مشترکہ مفادات کونسل سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر بھی بات چیت کی گئی ہے تاکہ عبوری نتائج کی بنیاد پر نئی حلقہ بندیاں کی جا سکیں۔

پنجاب کی کل آبادی
گیارہ کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ پنجاب اب بھی ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں کل آبادی کا 52.94 فیصد افراد مقیم ہیں۔

حالیہ مردم شماری نتائج کے مطابق صوبے کی آبادی میں 36.4 ملین یعنی تین کروڑ ساٹھ لاکھ سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ تعداد 1998 میں ہوئی مردم شماری کی نسبت 49.4 فیصد زیادہ ہے۔

پانچویں مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی کا تناسب کل ملکی آبادی کا 55.62 فیصد تھا جو اب تین فیصد سے زائد کم ہوا ہے۔

دوسری جانب حالیہ نتائج بتاتے ہیں کہ پنجاب کی آبادی میں سالانہ 2.13 فیصد اضافہ ہوا ہے جو دیگر صوبوں سمیت ملکی سطح پر قائم ہونے والے تناسب کے مقابلے میں سب سے کم اضافہ ہے۔

پنجاب کی شہری آبادی کا تناسب بڑھ کر 36.71 فیصد رہا ہے جب کہ اس کی 96.9 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں مقیم ہے۔ 1998 میں 48.2 فیصد خواتین کی تعداد کے مقابل نئی آبادی میں خواتین کا حصہ 49 فیصد ہو چکا ہے۔

سندھ کی کل آبادی
ملک کا جنوبی صوبہ سندھ اب بھی پاکستان کا دوسرا بڑا صوبہ ہے جہاں کل ملکی آبادی کا 23 فیصد مقیم ہے۔

گزشتہ 19 برسوں میں ستاون اعشاریہ تین فیصد یعنی 17.44 (ایک کروڑ 70 لاکھ سے زائد) اضافے کے باوجود سندھ کا مجموعی ملکی آبادی میں تناسب سابقہ سطح پر ہی برقرار ہے۔

سندھ کی آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح پر 2.41 فیصد کے ساتھ سابقہ جیسی ہی رہی ہے جو ملکی سطح پر ہوئے اضافے سے کچھ زیادہ ہے۔

سندھ کی شہری آبادی میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے جس کے بعد موجودہ آبادی کا 52 فیصد شہری علاقوں میں مقیم ہے۔ یہ تعداد 1998 میں 48.9 فیصد تھی۔

سندھ میں خواتین کی تعداد کل آبادی کا 48 فیصد یعنی 22.96 ملین (تقریبا 2 کروڑ 23 لاکھ) رہی ہے جو گزشتہ مردم شماری کے مقابل ایک فیصد زیادہ ہے۔

خیبرپختونخوا کی کل آبادی
تین کروڑ باون لاکھ کل آبادی کے ساتھ ملک کا شمال مغربی صوبہ خیبرپختونخوا تیسرے نمبر پر برقرار ہے۔ تاہم کل ملکی آبادی میں اس کا تناسب بڑھ کر 14.69 فیصد ہو گیا ہے جو گزشتہ مردم شماری کے مطابق 13.4 فیصد تھا۔

خیبرپختونخوا کی آبادی میں 72 فیصد یعنی تقریبا ایک کروڑ 23 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے جو دوسرا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ یہاں آبادی میں اضافے کا سالانہ تناسب 2.89 فیصد ہی رہا ہے جو ملکی تناسب سے زیادہ اور تیسری سب سے زیادہ شرح ہے۔

خیبرپختونخوا کی شہری آبادی قدرے اضافے کے ساتھ کل آبادی کا 17.67 فیصد رہی ہے۔

صوبے میں خواتین کی آبادی کل آبادی کا 49.3 فیصد رہی ہے جو ایک کروڑ 50 لاکھ سے زائد بنتی ہے۔

بلوچستان کی کل آبادی
حالیہ خانہ و مردم شماری کے مطابق بلوچستان کی کل آبادی 12.344 ملین ہو گئی ہے جو کل ملکی آبادی کا 5.94 فیصد ہے۔

پاکستان کے رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کی آبادی میں ہونے والا اضافہ 88 فیصد یعنی 58 لاکھ رہا ہے۔ تناسب کے اعتباد سے دیکھا جائے تو تمام وفاقی یونٹوں مں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ قبل ازیں 1998 میں ہوئی مردم شماری کے مطابق کل آبادی میں بلوچستان کا تناسب 4.96 فیصد تھا۔

بلوچستان کی کل آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح 3.37 فیصد رہی جو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ صوبے کی شہری آبادی 27.54 فیصد رہی ہے جو ماضی میں 23.3 فیصد تھی۔

بلوچستان کی کل آبادی میں خواتین کی تعداد 58 لاکھ سے زائد ہے جو کل صوبائی آبادی کا 47.5 فیصد بنتی ہے۔

اسلام آباد کی کل آبادی
وفاقی دارالحکومت یعنی اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کی کل آبادی 20 لاکھ رہی ہے جو 1998 کی مردم شماری کے مقابل 12 لاکھ زیادہ ہے۔ تناسب کے اعتباد سے دیکھا جائے تو اسلام آباد کی کل آباد میں سب سے زیادہ 149 فیصد فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اسلام آباد کی آبادی میں اضافے کا سالانہ تناسب سب سے زیادہ 4.91 فیصد رہا ہے جو ملکی سطح پر ہونے والے سالانہ اضافے سے دوگنا ہے۔

اسلام آباد کی کل آبادی کے حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں شہری آبادی کی شرح 65 فیصد سے کم ہو کر 5.57 فیصد ہو گئی ہے۔

اسلام آباد کی کل آبادی میں خواتین کی تعداد 47.2 فیصد رہی ہے۔

فاٹا کی کل آبادی
وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں کی آبادی 18 لاکھ کے اضافے کے ساتھ 21 لاکھ رہی ہے جو اضافے کے اعتبار سے 57 فیصد ہے۔

آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح 2014 ہی رہی ہے جو ملکی آبادی میں اضافے کے تناسب جتنا ہی ہے۔ 49 فیصد خواتین کے ساتھ فاٹا کی شہری آبادی صرف 2.83 فیصد رہی ہے۔

Shahid Abbasi

Shahid Abbasi is a Founder and Editor of Pakistan's fastest growing indepednent and bilingual news website, pakistantribe.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *